رت کا سندھ پر آبی حملہ ہماری تہذیب پر وار ہے، بلاول بھٹو

حیدرآباد:
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت دریائے سندھ کا پانی پاکستان سے موڑنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور صدیوں پرانی تہذیب، بالخصوص سندھ کی تہذیب پر براہِ راست حملہ ہوگا۔

بلاول بھٹو نے پیر کے روز ضلع مٹیاری کے شہر بھٹ شاہ میں صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے تین روزہ عرس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا،
"اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دریائے سندھ پر حملے کا اعلان کرتے ہیں تو وہ ہماری تاریخ، ہماری ثقافت اور ہماری تہذیب پر حملہ کر رہے ہیں۔”

انہوں نے دریائے سندھ کو پاکستان کی زندگی کی سب سے بڑی شاہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دریا نے ہزاروں سال سے وادیٔ سندھ کی تہذیب کو پروان چڑھایا ہے۔ بلاول کے مطابق، صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بھارت کے اندر بھی بہت سے لوگ اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف ہیں۔
"ہم نے پہلے بھی جنگیں لڑی ہیں لیکن کبھی سندھ پر حملہ نہیں ہوا، کسی نے کبھی اس پر ڈیم یا نہریں بنانے کا تصور بھی نہیں کیا تھا،” انہوں نے کہا۔

پی پی پی چیئرمین نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ دریائے سندھ پر پانی کے منصوبے بنا کر ڈھائی کروڑ پاکستانیوں کو براہِ راست دھمکی دے رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کر چکے ہیں اور اسے بھارت کی "آبی جارحیت” قرار دیتے ہیں۔

بلاول کے مطابق، یہ اقدام بھارت کو مئی میں پاک فوج کے ہاتھوں شکست کے بدلے میں اٹھایا گیا، جو سندھ طاس معاہدے کی "تاریخی خلاف ورزی” ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس دریا پر سب سے بڑا تاریخی حق حاصل ہے اور جب بھی "سندھو” کو خطرہ لاحق ہوا، سندھ کے لوگ سب سے آگے کھڑے ہوئے۔ بلاول نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں تنازع بڑھا تو پاکستان بھارت کے قبضے میں موجود تمام چھ دریاؤں کا حق واپس لے سکتا ہے۔

مئی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ پاکستان نے کبھی جارحیت کا آغاز نہیں کیا اور ہمیشہ پرامن حل کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی سفارتکار دنیا بھر میں امن کی بات کر رہے تھے تو بھارتی نمائندے جنگ کا پرچار کر رہے تھے۔

بلاول نے بتایا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، لیکن پاک فوج، خصوصاً فضائیہ نے تاریخی اور فیصلہ کن جواب دیا۔ انہوں نے عام شہریوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے سوشل میڈیا پر مودی حکومت کے بیانیے کو مؤثر انداز میں جواب دیا، جبکہ سفارتکاروں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف کامیابی سے پیش کیا۔

حضرت بھٹائی سے اپنے ذاتی اور خاندانی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ یہ ان کی دوسری حاضری ہے۔ ان کے دادا اور پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، والدہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو، اور والد، صدر آصف علی زرداری بھی یہاں حاضری دے چکے ہیں۔ تقریب کے دوران بلاول بھٹو نے لیاقت ایوارڈز نمایاں فنکاروں میں تقسیم کیے، مزار پر حاضری دی اور شاہ جو راگ کی روایتی دھنیں سنیں۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی اجتماع سے خطاب کیا

More From Author

"عیاش” بیوروکریسی پر خواجہ آصف کا دوبارہ وار، فوری اصلاحات کا مطالبہ

 پاکستان کا بھارت کے ساتھ آبی تنازع میں بڑی قانونی کامیابی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے