راولپنڈی:
جمعہ کے روز راولپنڈی اور اسلام آباد میں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر چھ بڑے جلوس نکالے جائیں گے، جن کے لیے حالیہ برسوں کی سب سے وسیع اور سخت سکیورٹی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 1 بجے سے تمام مرکزی راستے سیل کر دیے، میٹرو بس سروس معطل کر دی اور دن بھر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً 8 ہزار 500 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ رینجرز اور فوج کے دستے بھی ہائی الرٹ پر ہیں۔ جلوسوں کی نگرانی کے لیے ڈرون اور 500 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جبکہ کئی مقامات کو حساس ترین قرار دے کر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
پہلا جلوس دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر امام بارگاہ عاشق حسین، ٹیلی محلہ سے برآمد ہو کر دوپہر 1 بج کر 30 منٹ پر مرکزی امام بارگاہ کرنل مقبول حسین پہنچے گا۔ دیگر جلوس امام بارگاہ حفاظت علی شاہ سے 2:30 بجے، امام بارگاہ شہیدانِ کربلا (ٹائر بازار) سے 4:45 بجے، امام بارگاہ دربار شاہ چن چراغ سے 3:30 بجے اور امام بارگاہ بلتستانیہ سے دوپہر 1:00 بجے روانہ ہوں گے۔ یہ تمام جلوس نصف شب کے قریب امام بارگاہ قدیم پر اختتام پذیر ہوں گے اور مری روڈ، کمیٹی چوک، اقبال روڈ، فوارہ چوک، راجہ بازار سمیت دیگر اہم راستوں سے گزریں گے۔
سکیورٹی کے پیشِ نظر ڈپٹی کمشنر نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے جلوس کے راستوں پر واقع تمام بازار، پلازے اور مساجد بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شہریوں کو چھتوں، بالکونیوں اور کھڑکیوں پر کھڑے ہونے سے منع کر دیا گیا ہے۔ داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس لگائے گئے ہیں اور عزاداروں کی تین مرحلوں میں تلاشی لی جائے گی۔ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے اور تمام پارکنگ ایریاز اور تعمیراتی سامان ہٹا دیا گیا ہے۔
گھڑ سوار پولیس، خواتین اہلکار اور مسلح کمانڈوز جلوس کے راستوں اور بلند عمارتوں پر تعینات رہیں گے، خاص طور پر فوارہ چوک سے ڈنگی کھوئی تک کے دو فرلانگ طویل حصے کو انتہائی حساس قرار دے کر سینئر حکام براہِ راست نگرانی کریں گے۔ ماتمی جلوسوں کے راستوں پر پانی، چائے اور طبی امداد کے کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں جلوس کے دوران مخصوص مقامات پر باجماعت ادا کی جائیں گی۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں سے مکمل تعاون کریں تاکہ اس پرامن اور روحانی موقع کو بخیروخوبی مکمل کیا جا سکے