خیبر پختونخوا میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 323 تک جا پہنچی

پشاور/اسلام آباد: خیبر پختونخوا (کے پی) میں تباہ کن سیلاب نے زندگی مفلوج کر دی ہے، صوبائی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 323 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ملک بھر میں 26 جون سے اب تک بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اموات کی مجموعی تعداد 657 ہو گئی ہے، جس سے موجودہ مون سون سیزن حالیہ برسوں میں سب سے ہلاکت خیز قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید بارشوں کی پیشگوئی کے پیشِ نظر وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ وفاقی وزراء ذاتی طور پر خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کریں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل اسفند یار خٹک نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریسکیو آپریشنز بھرپور انداز میں جاری ہیں اور فوج کے پانچ ہیلی کاپٹر صوبائی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیر اور شانگلہ کے ریونیو اسٹاف کے مطابق تقریباً 150 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی امداد کے لیے ایک ارب پچاس کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

ابتدائی قسط میں پانچ سو ملین روپے تقسیم کیے گئے جن میں سے 15 کروڑ بنیر، 10 کروڑ مانسہرہ، پانچ کروڑ باجوڑ، جبکہ 4،4 کروڑ بٹگرام، سوات اور شانگلہ کے لیے مختص کیے گئے۔ بالائی کوہستان، زیریں کوہستان اور کولا ئی پالس کو ایک ایک کروڑ روپے دیے گئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ اضلاع میں امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے اور 33 ٹرک بنیر، آٹھ سوات جبکہ سات باجوڑ روانہ کیے جا چکے ہیں۔


این ڈی ایم اے کی وارننگ: مزید بارشیں متوقع

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر کے آغاز میں ملک کو مزید دو سے تین بارشوں کے سلسلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ترجمان ڈاکٹر طیب شاہ کے مطابق اس سال مون سون کی بارشیں گزشتہ برس کے مقابلے میں 50 سے 60 فیصد زیادہ رہی ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے اب تک 657 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 171 بچے، 94 خواتین اور 392 مرد شامل ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا جہاں 390 اموات رپورٹ ہوئیں۔ پنجاب میں 164، سندھ میں 28، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان میں 32، آزاد کشمیر میں 15 جبکہ اسلام آباد میں 8 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔


گلگت بلتستان کٹا ہوا، شاہراہیں بند

گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ خرمگ ضلع کے گاؤں کٹیشو میں سیلابی ریلے نے ایک خاتون اور اس کی بیٹی کی جان لے لی جبکہ گھزر ضلع میں لاپتہ چار سالہ بچی کی لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔

اہم شاہراہیں بشمول قراقرم ہائی وے، بلتستان ہائی وے اور گھزر-شندور روڈ بند پڑی ہیں جس کے باعث ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ گلگت شہر میں پانی، بجلی اور انٹرنیٹ کی طویل بندش پر شہریوں نے احتجاج بھی کیا۔


وزیرِاعظم کی وزراء کو براہِ راست نگرانی کی ہدایت

وزیراعظم آفس کے مطابق وفاقی وزراء کو خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع میں ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی پر مامور کیا گیا ہے۔ انجینئر امیر مقام شانگلہ اور بنیر، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف مانسہرہ جبکہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی مبارک زیب باجوڑ میں امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔

حکام کے مطابق وزیراعظم ریلیف پیکج کے تحت کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور خیموں سے لدے ٹرک متاثرہ علاقوں میں بھیجے جا رہے ہیں جبکہ وزیراعظم بذاتِ خود این ڈی ایم اے کی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔


پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ

دریں اثنا پنجاب میں دریاؤں میں پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک جبکہ سلیمانکی پر 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو کہ "نچلے درجے کے سیلاب” کے برابر ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کا بہاؤ 80 ہزار کیوسک سے اوپر گیا تو نچلے درجے کا، 1 لاکھ 20 ہزار پر درمیانے درجے کا، اور 1 لاکھ 75 ہزار کیوسک پر بلند درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔ اتھارٹی نے مزید بتایا کہ 22 یا 23 اگست تک پنجاب کے کئی اضلاع میں مزید موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے

More From Author

کے لیے وزراء کو بھیج دیا، ہلاکتوں کی تعداد 323 تک پہنچ گئی

پی سی بی چیئرمین کی ہاکی ٹیم کے لیے بڑی خوشخبری، پرو لیگ سے قبل بڑے اعلانات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے