حیدرآباد – 1 اگست 2025:
حیدرآباد میں ہونے والی ایک اہم ویمن اسمبلی میں سندھ بھر سے 90 سے زائد خواتین زرعی مزدور، سماجی کارکنان اور مزدور حقوق کے علمبردار جمع ہوئے، جہاں کپاس چننے والی خواتین کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ یہ خواتین، جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں، سندھ کے زرعی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ پروگرام سندھ کمیونٹی فاؤنڈیشن (SCF) اور کامن ویلتھ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس کا موضوع تھا: "محفوظ کام کے حالات اور موسمیاتی انصاف کا مطالبہ۔”
تقریب میں مقررین نے کم اجرتوں، لیبر قوانین سے محرومی، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا — خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو سندھ کے کپاس کے کھیتوں میں کام کر رہی ہیں، جن کی تعداد ایک ملین سے زائد ہے۔
SCF کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جاوید حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو سماجی تحفظ کے اقدامات کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ یہ خواتین معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا بھی کر رہی ہیں۔
"موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی — یہ اب دیہی خواتین مزدوروں کی صحت، روزگار اور وقار کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے،” جاوید حسین نے کہا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ایکٹ 2019” جیسے قوانین تو موجود ہیں، جن کے تحت کم از کم اجرت، زچگی کی سہولیات، طبی سہولتیں اور سماجی تحفظ جیسی بنیادی مراعات دی جانی چاہئیں، لیکن یہ قانون آج تک دیہی علاقوں میں مؤثر طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب سندھ آبادگار بورڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے ندیم شاہ نے اعتراف کیا کہ صوبے کی زرعی لیبر کا 70 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے، لیکن وہ تاحال لیبر قوانین کے دائرہ کار میں شامل نہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ زراعت کو باقاعدہ طور پر "انڈسٹری” تسلیم کیا جائے تاکہ خواتین کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے اور انہیں فلاحی اسکیموں میں شامل کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے متفقہ طور پر درج ذیل مطالبات پیش کیے:
- سندھ ویمن ایگریکلچرل ورکرز ایکٹ 2019 کا فوری اور مکمل نفاذ
- کم از کم اجرت کی ادائیگی کی مؤثر نگرانی
- خواتین زرعی مزدوروں کے لیے یونیورسل ہیلتھ انشورنس اور سماجی تحفظ
- خواتین کی فلاحی بورڈز اور معاوضہ اسکیموں میں شمولیت
- زمینداروں اور کنٹریکٹرز کے لیے مزدور حقوق پر آگاہی مہمات
- خواتین زرعی مزدوروں کے لیے مخصوص موسمیاتی موافقت کی پالیسیاں
- پالیسی سازی کے عمل میں دیہی خواتین کی مؤثر نمائندگی اور شمولیت
یہ ویمن اسمبلی نہ صرف فوری اقدامات کے مطالبے کا ایک اہم فورم تھی بلکہ اس نے زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کی مسلسل محرومی اور پسماندگی کی یاد دہانی بھی کرائی — خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور معاشی بحران جیسے چیلنجز درپیش ہیں