پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2025 میں نوجوانوں کو گوگل اور مائیکروسافٹ کے 5 لاکھ سرٹیفکیٹس فراہم کرے گی۔ یہ اعلان وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا۔
شزہ فاطمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ اقدام حکومت کے اُس وسیع منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے سرٹیفکیٹس نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر مواقع فراہم کریں گے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پرائمری سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم متعارف کرانے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک نصاب اصلاحاتی کمیٹی، جس کی سربراہی وزیرِاعظم خود کر رہے ہیں، مختلف تعلیمی اصلاحات کا جائزہ لے رہی ہے۔
"ہم چاہتے ہیں کہ بچے کم عمری سے ہی جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہوں۔ یہ صرف کوڈنگ سیکھنے کی بات نہیں بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرنے کی ضرورت ہے جو آنے والے وقتوں میں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا سکے،” وزیرِ مملکت نے کہا۔
اجلاس کے دوران شزہ فاطمہ نے اُن یونیورسٹیوں پر بھی تنقید کی جو بڑی تعداد میں بیروزگار آئی ٹی گریجویٹس پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جامعات کی فنڈنگ بند کی جائے جن کے فارغ التحصیل طلبہ کو ملازمت نہیں ملتی۔
انہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے مطالبہ کیا کہ وہ یونیورسٹی پروگرامز کا ازسرنو جائزہ لے اور صرف اُنہی کورسز کو سرکاری تعاون دیا جائے جو مارکیٹ میں حقیقی معنوں میں کارآمد ثابت ہو رہے ہوں۔
علاوہ ازیں، کمیٹی نے بین الاقوامی روابط کے لیے ڈائریکٹر جنرل (DG) کی تعیناتی کے طریقہ کار پر بھی غور کیا۔ شزہ فاطمہ نے وضاحت کی کہ موجودہ ڈی جی کی دوبارہ تعیناتی کے باوجود اس پوسٹ کو دوبارہ مشتہر کیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
"ڈی جی کی اس آسامی کے لیے 1,400 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں،” انہوں نے بتایا۔ "اس کا مقصد کسی کو باہر کرنا نہیں تھا بلکہ سب کو، خاص طور پر نئے امیدواروں کو، مساوی موقع دینا تھا۔”
سینیٹر منظور کاکڑ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے واضح کیا کہ یہ اسامی کسی نئے گریجویٹ کے لیے نہیں بلکہ بین الاقوامی تجربہ رکھنے والے ماہرین کے لیے مخصوص ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے عہدے پاکستان کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تعلقات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ان اعلانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت تعلیمی نظام کو جدید بنانے، نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کرنے اور صنعت و تعلیم کے درمیان خلا کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے