اسلام آباد – 26 جولائی 2025:
پاکستان نے جمعہ کے روز ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر عالمی سطح پر مربوط اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے انتہاپسند مواد کی نشاندہی اور اس کے فوری خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
اسلام آباد میں وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد آزادیِ اظہار کو محدود کرنا نہیں، بلکہ ان قوتوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کرنا ہے جو سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرکے ملک دشمن بیانیہ پھیلا رہی ہیں۔
"ہم آوازوں کو دبانا نہیں چاہتے، مگر جب دہشت گردی آزادی کی آڑ میں چھپنے لگے تو حدود کا تعین کرنا ضروری ہو جاتا ہے،” طلال چوہدری نے کہا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی میں ملوث اکاؤنٹس کی بندش، ’مرر اکاؤنٹس‘ کے خاتمے اور ان اکاؤنٹس کے صارفین کی معلومات کی فراہمی میں حکومت سے تعاون کریں۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے واٹس ایپ چینلز کے ذریعے نفرت انگیز مواد اور شدت پسند بیانیے کو پھیلانے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو ملکی سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنے ہیں۔
طلال چوہدری کے مطابق دہشت گردی سے متعلق سوشل میڈیا پر موجود 2,400 سے زائد شکایات اس وقت حکام کے زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بی ایل اے، اور بی ایل ایف جیسی تنظیموں کا نام لے کر الزام عائد کیا کہ یہ گروہ نوجوانوں کی ذہن سازی اور بھرتی کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں۔
"پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کردار ادا کیا ہے،” انہوں نے کہا۔ "لیکن اب یہ جنگ ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے—ایک آن لائن جنگ، جسے ہمیں سنجیدگی سے لینا ہوگا۔”
بیرسٹر عقیل ملک نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی اور پروپیگنڈا پھیلانا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت قابل سزا جرم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے منسلک مواد کی خودکار بندش کے اقدامات کریں اور سیکیورٹی اداروں کو ڈیٹا تک رسائی فراہم کریں۔
"یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے،” بیرسٹر عقیل ملک نے کہا۔ "اگر سوشل میڈیا کمپنیاں عالمی رجحانات سے پیسہ کما سکتی ہیں تو وہ عالمی سلامتی کو یقینی بنانے میں بھی تعاون کر سکتی ہیں۔”