کراچی: شہر قائد میں اتوار کے روز ایک بڑے بحران نے جنم لیا جب حب کینال کی ہنگامی مرمت کے باعث حب ڈیم سے آنے والا پانی تقریباً 60 فیصد کم کر دیا گیا، جس کے بعد لاکھوں شہری سنگین قلتِ آب سے دوچار ہیں۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) کے حکام کے مطابق کینال کے اُس آٹھ کلومیٹر طویل حصے میں کٹاؤ اور نقصان ہوا ہے جو واپڈا کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ یہ حصہ اُس مقام سے پہلے واقع ہے جسے “زیرو پوائنٹ” کہا جاتا ہے، جہاں سے واپڈا کا کنٹرول ختم ہو کر کے ڈبلیو ایس سی کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
مزید نقصان سے بچنے کے لیے واپڈا نے کینال میں پانی کے بہاؤ کو نمایاں حد تک کم کر دیا، جس نے شہر کے پہلے سے ہی کمزور فراہمی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کے ڈبلیو ایس سی کے چیف انجینئر نے تصدیق کی:
“کراچی کو اس وقت حب ڈیم سے صرف 40 ملین گیلن یومیہ (ایم جی ڈی) پانی فراہم ہو رہا ہے، جب کہ معمول کا حجم 100 ایم جی ڈی ہے۔”
شہری پانی کے بغیر طویل اوقات گزارنے پر مجبور
فراہمی میں اس کمی کے نتیجے میں مغربی، وسطی اور کیماڑی کے علاقوں میں نل خشک ہو چکے ہیں اور لوگ پانی کے لیے پریشان ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مرمت مکمل ہونے کے بعد بھی فوری ریلیف ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ ڈیم سے حب پمپنگ اسٹیشن تک پانی پہنچنے میں کم از کم 12 گھنٹے لگتے ہیں۔
کے ڈبلیو ایس سی نے اپنے بیان میں کہا:
“مرمت کا کام اتوار شام 4 بجے تک مکمل ہو جائے گا، مگر فراہمی فوری طور پر معمول پر نہیں آئے گی۔ عوام سے گزارش ہے کہ پانی احتیاط سے استعمال کریں، اس دوران ہم ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔”
سیاسی رسہ کشی نے بحران کو مزید بھڑکایا
پانی کے بحران نے سیاسی ماحول کو بھی گرما دیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی سید امین الحق نے سندھ حکومت اور کے ڈبلیو ایس سی دونوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں “مجرمانہ غفلت اور کرپشن” کا ذمہ دار ٹھہرایا جس کے باعث کراچی کے شہری “ہر قطرے کو ترس رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا:
“حب کینال کے 100 ایم جی ڈی منصوبے کا بہت شور مچایا گیا تھا، لیکن آج بھی اورنگی، سرجانی، بلدیہ، کیماڑی، کورنگی، لانڈھی، نارتھ کراچی، ملیر اور شاہ فیصل کالونی کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔”
امین الحق نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ بدانتظامی کی وجہ سے حالیہ بارشوں کے باوجود کئی علاقے گندے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے جماعت اسلامی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ان کا کردار “صرف نعروں تک محدود رہا ہے، عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔”
انہوں نے مزید کہا:
“نکاسی آب اور صفائی کے منصوبے صرف کاغذوں میں موجود ہیں، جبکہ ہر بارش میں مرکزی کراچی سمیت کئی علاقے گندے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔” ایم کیو ایم رہنما نے حکومت سے جوابدہی اور فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا:
“کراچی کے شہری ٹیکس دیتے ہیں لیکن بدلے میں انہیں ٹوٹی سڑکیں، کوڑا کرکٹ اور کھوکھلے وعدے ملتے ہیں۔ شہر کو اب تقریروں نہیں بلکہ عملی کام کی ضرورت ہے