کوالالمپور — 11 جولائی 2025
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کے روز ایک واضح پیغام دیا: پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی تو برقرار ہے، لیکن بھارتی قیادت حالیہ تنازعے کے نتائج کو تسلیم کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔
کوالالمپور میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جو آسیان ریجنل فورم (ARF) کے موقع پر منعقد ہوئی، ڈار نے کہا:
"فوجی سطح پر جنگ بندی بالکل درست کام کر رہی ہے، رابطے قائم ہیں، لیکن مسئلہ بھارتی قیادت کے ذہن میں ہے — وہ اس حقیقت کو ہضم نہیں کر پا رہے کہ انہیں جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی۔”
یاد رہے کہ اپریل میں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان چار روزہ شدید جھڑپ ہوئی، جس میں میزائل حملے، ڈرون وار اور توپ خانے کا استعمال شامل تھا — یہ حالیہ دہائیوں کا سب سے شدید تصادم تھا۔
ڈار نے دعویٰ کیا:
"جنگ بھارت نے شروع کی اور اسی نے اختتام کی درخواست بھی کی۔ صبح 8:15 پر امریکی وزیر خارجہ نے فون کیا اور کہا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے۔”
آپریشن بنیان المرصوص اور بھارتی تنہائی
اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کے جوابی عسکری کارروائی کا بھی انکشاف کیا، جسے آپریشن بنیان المرصوص کا نام دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس نے چھ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے، جن میں چار رافیل بھی شامل تھے — تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا:
"بھارت نہ قانونی طور پر اور نہ عملی طور پر پاکستان کا پانی روک سکتا ہے۔ وہ دریاؤں پر سیاست کرنا چاہتے ہیں، مگر دنیا دیکھ رہی ہے۔ بھارت اپنے جارحانہ رویے کے باعث عالمی سطح پر تنہا ہوتا جا رہا ہے۔”
معاشی اعتماد اور G20 کی امیدیں
خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے معیشت پر بھی بات کی، اور موجودہ حالات کے باوجود پاکستان کی معاشی بحالی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"پاکستان نے ایک معاشی پرواز کا آغاز کر دیا ہے، اور اب ہمارا ہدف G20 میں شمولیت ہے۔ ہم استحکام حاصل کر چکے ہیں اور ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔”
ان کے اس بیان کو ملک میں حالیہ غیر ملکی سرمایہ کاری، اصلاحات اور معاشی استحکام کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں تعلقات کو نئی جہت
اسی دن اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون پر بات چیت کی۔ ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمنائیں پہنچائیں۔
انہوں نے ملائیشیا کو 2025 میں آسیان کی سربراہی سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ "تقسیم شدہ دنیا میں قیادت کے لیے ایک سنہری موقع” ہے۔
جواب میں وزیراعظم انور نے کہا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کا رواں سال اکتوبر میں کوالالمپور میں خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔
آسیان فورم — امن اور مکالمے کا پلیٹ فارم
اسحاق ڈار کی کوالالمپور آمد آسیان کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی وابستگی کی علامت ہے — ایک ایسا علاقائی فورم جو جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آسیان ریجنل فورم میں 27 ممالک کے وزرائے خارجہ اور آسیان سیکرٹری جنرل شامل ہوتے ہیں، اور اس فورم کا مقصد سیکیورٹی، میری ٹائم تنازعات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور انسداد دہشت گردی جیسے چیلنجز پر مکالمہ اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ڈار کے مطابق، پاکستان اس فورم کو صرف سفارت کاری کا موقع نہیں بلکہ خود کو ایک ذمہ دار اور متحرک علاقائی کھلاڑی کے طور پر پیش کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
اپنے قیام کے دوران اسحاق ڈار ملائیشیا میں پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقات کریں گے — جو کہ نہ صرف ملکی معیشت بلکہ سفارتی کوششوں میں بھی ایک مضبوط کردار ادا کر رہی ہے