اسلام آباد: جاپان نے عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر تجارتی تعلقات میں تنوع لانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جاپانی آٹو موبائل کمپنیوں کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پالیسی استحکام اور ہدفی سرمایہ کاری مراعات فراہم کی جائیں۔
یہ معاملہ ٹوکیو میں ہونے والی ایک ملاقات میں زیرِ بحث آیا، جس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان اور جاپان کی وزارتِ معیشت، تجارت و صنعت کے وائس منسٹر برائے بین الاقوامی امور ماتسوؤ تاکیہیکو شریک تھے، جبکہ پاکستان کے سفیر عبد الحمید بھی موجود تھے۔
ملاقات میں صنعتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بات چیت ہوئی، خاص طور پر آٹو موبائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ اس موقع پر پاکستان کی نوجوان اور بڑی آبادی، بڑھتا ہوا صارفین کا حلقہ اور برآمدی امکانات اجاگر کیے گئے، جبکہ یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت 70 سے زائد جاپانی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔
شرکاء نے پاکستان کی نئی صنعتی پالیسی پر بھی گفتگو کی، جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ، ٹیرف میں نرمی، ریگولیشنز کو آسان بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، تاکہ حکومت کے چھ سے سات فیصد برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
جاپانی حکام نے عالمی آٹو انڈسٹری کے نئے رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بایو فیولز کی اہمیت بڑھ رہی ہے، جہاں ٹویوٹا اور سوزوکی جیسے ادارے نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ پالیسی کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ سزا پر مبنی اقدامات کی بجائے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مراعاتی اقدامات اختیار کیے جائیں۔ ملاقات میں جاپان کی جانب سے پاکستان کے آٹو موبائل اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع، بایو فیولز کے امکانات اور آٹو انڈسٹری کے لیے ریگولیٹری معیار وضع کرنے کی ضرورت پر بھی گفتگو کی گئی