اگر آپ ایک ہی مردہ ستارے کو بیس سال تک مسلسل دیکھتے رہیں تو کیا حاصل ہوتا ہے؟ آپ کو کائنات کی سب سے عجیب فزکس کا سراغ ملتا ہے۔
یہ ستارہ PSR J0922+0638 ایک پلسار ہے — یعنی ایک نیوٹرون اسٹار۔ یہ وہ انتہائی گنجان مادّہ ہوتا ہے جو بڑے ستاروں کے مرنے کے بعد بچتا ہے۔ پلسار بہت تیزی سے گھومتے ہیں اور باقاعدہ وقفوں سے شعاعیں خارج کرتے ہیں، جیسے کوئی کائناتی لائٹ ہاؤس۔ عام طور پر یہ بہت درست وقت پر گھومتے ہیں — جب تک کہ اچانک کچھ گڑبڑ نہ ہو جائے۔
پلسار کیوں خاص ہوتے ہیں؟
ایک پلسار کا سائز تو صرف چند میل ہوتا ہے، لیکن اس میں کئی سورجوں جتنا وزن ہوتا ہے۔ ان میں ایٹمز اس حد تک دبتے ہیں کہ پروٹونز اور نیوٹرونز ایک بڑی "ایٹمی کور” میں ضم ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بلیک ہول بننے کے بالکل کنارے پر فزکس کام کر رہی ہوتی ہے۔ اوپری سطح کا ہمیں کچھ اندازہ ہے، مگر اندر کا حال ابھی بھی ایک راز ہے۔
PSR J0922+0638 ہر 0.43063 سیکنڈ میں ایک چکر مکمل کرتا ہے، اور یہ رفتار لاکھوں سال سے تقریباً ایک جیسی ہے۔ لیکن مکمل طور پر مستحکم نہیں — اور یہی غیر معمولی پن سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔
22 سالہ ڈیٹا سے گلیچز کا انکشاف
چین کے نانشان ریڈیو ٹیلی اسکوپ اور جنوبی افریقہ کے MeerKAT ٹیلی اسکوپ نے اس پلسار کی 22 سال تک نگرانی کی۔ نتیجہ؟ ستارے کی گھومنے کی رفتار میں معمولی لیکن اچانک تبدیلیاں دیکھی گئیں جنہیں گلیچز کہا جاتا ہے۔
- درجن سے زائد گلیچز ریکارڈ ہوئے — کچھ پہلے دیکھے جا چکے تھے، بہت سے نئے تھے۔
- یہ تبدیلیاں بہت معمولی تھیں (ایک اربویں حصے سے بھی کم)، لیکن توانائی کی سطح پر یہ تبدیلیاں بہت بڑی تھیں۔
- حیرت انگیز بات؟ یہ گلیچز تقریباً ہر 550 دن بعد باقاعدگی سے ہو رہے تھے۔
اسی کے ساتھ، پلسار کی گھومنے کی رفتار میں آہستہ آہستہ تبدیلی بھی دیکھی گئی — جیسے ایک 500 سے 600 دن کی مدت میں دھیرے دھیرے رفتار تیز اور پھر کم ہوتی ہو۔ یہ تبدیلیاں بھی انہی گلیچز کے پیٹرن سے ملتی جلتی ہیں۔
تو معاملہ کیا ہے؟
سائنسدان ابھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے، لیکن چند ممکنہ وجوہات پر غور ہو رہا ہے:
- مقناطیسی چکر کا نظریہ:
جیسے ہمارے سورج پر سورج کی دھبوں کی سرگرمی بدلتی رہتی ہے، ویسے ہی پلسار بھی مقناطیسی چکروں سے گزر سکتے ہیں جو توانائی کو جمع اور خارج کرتے ہوں۔ - سپر فلوئڈ کور کا نظریہ:
ممکن ہے کہ پلسار کے گہرے اندرون میں ایک عجیب حالت میں مادہ موجود ہو — جسے سپر فلوئڈ کہتے ہیں — جو بغیر کسی رگڑ کے بہتا ہے۔ اس کا اندرونی حرکت پورے ستارے کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے، اور جب اس کا بہاؤ الٹا ہو تو اچانک گلیچ پیدا ہو سکتا ہے۔
نتیجہ:
ہمیں اب بھی مکمل یقین نہیں کہ یہ گلیچز کیسے بنتے ہیں یا پلسار کے اندر کیا چل رہا ہے۔ لیکن ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی گہرا تعلق ضرور ہے۔ اور اس راز کو سمجھنے کا واحد راستہ ہے — صبر کے ساتھ طویل مدتی مشاہدہ۔
مختصر بات:
یہ مردہ ستارہ صرف گھوم نہیں رہا، بلکہ کچھ بتا رہا ہے۔ اور شاید یہ ہمیں کائنات کی اصل حقیقت کے کچھ نئے اشارے دے رہا ہو۔