ساہیوال: ساہیوال کے تین نوجوان تھائی لینڈ میں ہنی ٹریپ اسکینڈل کا شکار ہو گئے، جہاں بھارتی خواتین نے مبینہ طور پر انہیں اغوا کرکے میانمار کی سرحد پر منتقل کر دیا۔
متاثرہ نوجوانوں کی شناخت عثمان امین، محمد احمد اور تجمل شہزاد کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق روانگی سے قبل ان کی بھارتی خواتین سے فون پر بات چیت ہوتی رہی۔ یہ تینوں 26 مئی 2025 کو فیصل آباد کے ایک دوست کے ساتھ تھائی لینڈ روانہ ہوئے تھے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ پہنچنے پر ان نوجوانوں کو اغوا کر لیا گیا اور بعد ازاں انہیں میانمار کی سرحد کے قریب نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اغوا کاروں نے بعد میں متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کیا اور ان کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔
متاثرین کے والدین نے انکشاف کیا کہ بھارتی خواتین نے خود ہی ان کے بیٹوں کے ٹکٹس کا انتظام کیا اور سفر کے دوران مسلسل رابطے میں رہیں۔ مزید یہ کہ لاہور ایئرپورٹ پر بھی کچھ نامعلوم افراد نے انہیں رخصت کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سارے معاملے کے پیچھے کسی منظم نیٹ ورک کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارتخانے پر متاثرہ خاندانوں نے شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارہا اپیلوں کے باوجود سفارتی عملہ تعاون کرنے سے قاصر ہے اور کوئی خاطر خواہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس واقعے نے وزارت خارجہ اور وزیر اعظم شہباز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ پیدا کر دیا ہے، جو اس سے قبل بھی انسانی اسمگلنگ کے ایسے معاملات میں مداخلت کر چکے ہیں۔ یہ واقعہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں پاکستانی نوجوان بیرون ملک بہتر مستقبل کی تلاش میں ہنی ٹریپ اور انسانی اسمگلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں سال وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ اور ویزہ فراڈ میں ملوث نو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاریاں گوجرانوالہ، گجرات، ملتان، رحیم یار خان اور میاں چنوں میں کی گئی تھیں جہاں ایک منظم گروہ شہریوں کو جعلی روزگار کے وعدوں پر بیرون ملک بھیجنے کے بہانے لوٹ رہا تھا