اسلام آباد:
ترکی کے وزیرِ دفاع یاشار گولر نے پاکستان فضائیہ (پی اے ایف) کی بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعے میں شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس کی مستعدی اور قومی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا مظہر ہے۔
یہ بات انہوں نے بدھ کے روز ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کے دورے کے دوران کہی، جہاں اُن کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ترک عسکری وفد نے چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے تفصیلی ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات میں خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، جاری دفاعی تعاون کی پیش رفت اور ایرو اسپیس، ڈسرپٹو ٹیکنالوجیز اور بغیر پائلٹ فضائی نظام (UAS) جیسے نئے شعبوں میں اشتراک کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر دفاع گولر نے ایئر چیف مارشل سدھو کی پیشہ ورانہ قیادت کی تعریف کی اور بھارت کے ساتھ چار روزہ کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ کے مؤثر اور مدبرانہ ردعمل کو "دباؤ میں بھی مثالی اور متوازن” قرار دیا۔
انہوں نے ترکی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا، خصوصاً انڈسٹری ٹو انڈسٹری سطح پر پارٹنرشپ اور جدید ٹیکنالوجیز — جیسے ایویانکس اور اگلی نسل کی جنگی صلاحیتوں — میں مشترکہ منصوبہ بندی کے ذریعے۔
ایئر چیف مارشل سدھو نے ترک وفد کو بتایا کہ پاکستان فضائیہ، ترکی کے ساتھ تاریخی اور اسٹریٹجک دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین مشترکہ اقدار، باہمی اعتماد اور برادرانہ تعلقات پر زور دیا۔
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مختلف مشترکہ شعبہ جات میں پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دونوں ممالک نے پائلٹ ایکسچینج پروگرام کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا، جسے دونوں ایئر فورسز کے درمیان پیشہ ورانہ ہم آہنگی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، ترک وزیردفاع کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو ادارہ جاتی شکل دینے، دفاعی تعاون کو وسعت دینے اور افواج کے مابین دیرپا روابط قائم کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ایک روز قبل چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل وانگ گانگ نے بھی ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ اس ملاقات میں انہوں نے ایئر چیف مارشل سدھو کی پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں پاک فضائیہ کی کارکردگی کو "مثالی، نپی تلی اور تدبر پر مبنی” قرار دیا۔ اسلام آباد میں ان مسلسل اعلیٰ سطحی عسکری ملاقاتوں کے تناظر میں، پاکستان کی دفاعی سفارت کاری میں نئی جان آتی دکھائی دیتی ہے — جو نہ صرف پرانے رشتوں کی تجدید ہے بلکہ ایک جدید، خودانحصار اور ٹیکنالوجی پر مبنی دفاعی تعاون کی سمت میں پیش قدمی بھی