اسلام آباد – اگست 2025:
پاکستان میں ترکی کے ویزہ درخواست مرکز، اناتولیہ، نے پاکستانی شہریوں کے لیے نئی ویزہ فیسوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نئی شرحیں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور ملک بھر میں قائم تمام سرکاری ویزہ مراکز پر جمع کرائی جانے والی درخواستوں پر لاگو ہوں گی۔
تفصیلات کے مطابق، سنگل انٹری ویزہ کے لیے فیس قیام کی مدت کے مطابق درج ذیل ہوگی:
- 3 ماہ کے قیام کے لیے فیس 180 ڈالر (تقریباً 52,200 روپے)
- 6 ماہ کے قیام کے لیے فیس 200 ڈالر (تقریباً 58,000 روپے)
- 12 ماہ کے قیام کے لیے فیس 220 ڈالر (تقریباً 63,800 روپے)
وہ افراد جو متعدد بار ترکی کا سفر کرنے کے خواہاں ہیں، ان کے لیے صرف 12 ماہ کا ملٹی پل انٹری ویزہ دستیاب ہے، جس کی فیس 340 ڈالر (تقریباً 98,600 روپے) مقرر کی گئی ہے۔
ترکی کے ویزہ مرکز کے مطابق، 3 یا 6 ماہ کی ملٹی پل انٹری ویزہ کی سہولت فی الحال کسی بھی کیٹیگری میں دستیاب نہیں ہے۔
علاوہ ازیں، جلدی پروسیسنگ کے خواہشمند افراد کے لیے وی آئی پی سروس بھی دستیاب ہے، جس کی اضافی فیس 15 ڈالر (تقریباً 4,350 روپے) ہے۔
ادائیگیاں صرف نقد اور پاکستانی روپے میں قبول کی جائیں گی، اور یہ ادائیگیاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایک دن قبل جاری کردہ سرکاری ایکسچینج ریٹ کے مطابق وصول کی جائیں گی۔
ویزہ مرکز نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ویزہ فیس ناقابلِ واپسی ہے، خواہ درخواست منظور ہو یا مسترد۔
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ترکی جانے سے قبل ویزہ حاصل کرنا لازمی ہوگا، کیونکہ ویزہ پالیسی میں کوئی نرمی نہیں کی گئی۔
تاہم، ترکی پاکستانی سیاحوں کے لیے ایک پسندیدہ سیاحتی مقام بنا ہوا ہے۔
یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع یہ ملک اپنے قدرتی نظاروں، تاریخی ورثے اور متنوع ثقافت کے باعث ہر سیاح کے لیے کچھ نہ کچھ خاص رکھتا ہے۔
انطالیہ کے نیلگوں ساحلوں سے لے کر استنبول کے تاریخی بازاروں اور کپادوکیہ کے پراسرار پہاڑی سلسلوں تک، ترکی ہر قدم پر حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اگر آپ بھی ترکی کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ جلد از جلد ویزہ کی درخواست جمع کرائیں، کیونکہ سیزن کے دوران درخواستوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور پروسیسنگ میں وقت لگ سکتا ہے