انقرہ — ترکی نے اسرائیل کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے اسرائیلی طیاروں اور جہازوں کے لیے اپنی فضائی حدود اور بندرگاہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جمعے کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات ’’مکمل طور پر ختم‘‘ کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ترک پرچم بردار بحری جہاز اسرائیلی بندرگاہوں پر نہیں جائیں گے اور اسرائیلی طیاروں کو بھی ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’اسرائیل گزشتہ دو برسوں سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے بنیادی انسانی اقدار کو پامال کر رہا ہے۔‘‘
تجارتی تعلقات کا خاتمہ
ترکی نے مئی 2024 میں ہی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تجارت معطل کر دی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ غزہ میں جنگ بند کی جائے اور انسانی امداد کو بلا رکاوٹ پہنچنے دیا جائے۔ اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان 2023 میں تجارتی حجم 7 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔
صدر رجب طیب ایردوان بھی بارہا اسرائیلی اقدامات کی مذمت کر چکے ہیں۔ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو ہٹلر سے تشبیہ دے چکے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں توسیع پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
سکیورٹی خدشات اور علاقائی کشیدگی
ماہرین کے مطابق اب ترکی غزہ کے معاملے کو صرف انسانی بحران کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسرائیل کو براہِ راست سکیورٹی خطرہ سمجھنے لگا ہے۔ الجزیرہ کے نامہ نگار رسول سردار کے مطابق اسرائیل کی شام اور خطے کے دیگر ممالک پر کارروائیاں انقرہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
شام میں ترکی کا الزام ہے کہ اسرائیل جنگ کے بعد بحالی کے عمل کو جان بوجھ کر نقصان پہنچا رہا ہے۔ ترک سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم بھی ہو سکتا ہے۔
عالمی اتحادوں میں تبدیلی
وزیرِ خارجہ فیدان کے بیانات اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ترکی اب امریکا اور یورپی یونین کی یکطرفہ اسرائیل نوازی کے مقابلے میں گلوبل ساؤتھ اور دیگر طاقتوں سے مضبوط ردعمل کی توقع کر رہا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار عکیوا ایلدار کے مطابق، ’’ترکی محض ایک عام ملک نہیں ہے جو اسرائیل سے تعلقات توڑ رہا ہے۔ یہ برسوں سے اسرائیل کا اتحادی، ایک اہم تجارتی منڈی اور اسرائیلی سیاحوں کی پسندیدہ منزل رہا ہے۔ اب اسرائیلی عوام خود کو زیادہ سے زیادہ تنہا اور دنیا سے کٹا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔‘‘
پرانی کشیدگی
ترکی اور اسرائیل کے تعلقات 2010 کے بعد سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، جب غزہ جانے والے بحری بیڑے پر اسرائیلی حملے میں 10 ترک شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد سے انقرہ نے کئی بار اسرائیلی حکام کو اپنی فضائی حدود کے استعمال سے بھی روکا ہے۔
ستمبر 2024 میں مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں ترک نژاد امریکی کارکن عائشہ نور ایزگی ایگی کی ہلاکت نے بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید بگاڑ دیا۔
ماضی میں فوجی اور تجارتی تعاون کے باوجود، انقرہ کا تازہ ترین فیصلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی دراڑ تصور کیا جا رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ غزہ کی جنگ پر اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی اور دباؤ کا سامنا ہے۔