ترقی پذیر ممالک کے توانائی اہداف کیلئے پاکستان کا عالمی مالی معاونت بڑھانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ: پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر وہ جو قرضوں کی ادائیگی کے بحران کا شکار ہیں، کیلئے مالی معاونت میں اضافہ کریں تاکہ یہ ممالک اپنی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ صاف توانائی کی منتقلی کو بھی یقینی بنا سکیں۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (HLPF) میں پائیدار ترقی کے ہدف 7 (SDG7) – جو سب کیلئے سستی اور صاف توانائی تک رسائی کو یقینی بنانے سے متعلق ہے – پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اس عالمی توانائی منتقلی کی فوری ضرورت اور مواقع دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، “پاکستان اس منتقلی کی مشکلات اور اس کے امکانات دونوں کی مثال پیش کرتا ہے۔” یہ فورم اقتصادی و سماجی کونسل کے تحت کام کرتا ہے اور ممالک کو اپنے پائیدار ترقی اہداف کی پیش رفت رپورٹ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

سفیر عاصم نے فورم کو بتایا کہ اگرچہ پاکستان نے توانائی کے شعبے میں کافی پیش رفت کی ہے، لیکن 2024 تک تقریباً چار کروڑ افراد اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اپنے صاف توانائی کے اہداف پر قائم ہے اور 2030 تک ملک کی 60 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

انہوں نے قومی توانائی روڈ میپ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئندہ برسوں میں 13 گیگاواٹ نئی پن بجلی کی صلاحیت شامل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جبکہ جوہری توانائی کم کاربن بیس لوڈ سپلائی کا اہم ذریعہ بنی رہے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں “خاموش سولر انقلاب” بھی جاری ہے جسے کم درآمدی ٹیرف، سستی ٹیکنالوجی اور موثر نیٹ میٹرنگ پالیسیز فروغ دے رہی ہیں۔ “تازہ اندازوں کے مطابق 2025 کے اوائل تک پاکستان میں یوٹیلیٹی بجلی کا تقریباً 25 فیصد حصہ شمسی توانائی سے حاصل کیا جا رہا تھا،” انہوں نے بتایا۔ واضح رہے کہ پاکستان اقوام متحدہ میں گروپ آف فرینڈز آف سسٹین ایبل انرجی کی مشترکہ صدارت بھی کر رہا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے قومی ترقیاتی اہداف کو عالمی پائیداری کے ایجنڈے سے ہم آہنگ کر رہا ہے

More From Author

غزہ کا معاملہ اگلے ہفتے ڈار کے اقوام متحدہ کے دورے میں سرفہرست رہے گا

سندھ میں موسلا دھار بارشیں، مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق، نظام زندگی مفلوج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے