تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے سے 2026 میں بجلی کی پیداوار شروع ہوگی، وزیر آبی وسائل

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے کہا ہے کہ تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے آئندہ سال بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی، جس سے ملک کے قومی گرڈ میں سستی اور ماحول دوست توانائی شامل کی جا سکے گی۔

یہ اعلان انہوں نے واپڈا چیئرمین نوید اصغر چوہدری اور دیگر سینئر حکام کے ہمراہ منصوبے کے تعمیراتی مقام کے حالیہ دورے کے دوران کیا، جہاں انہیں منصوبے کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔

وزیر کے مطابق، یہ منصوبہ مکمل ہونے پر 1,530 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گا اور سالانہ اوسطاً 1.347 ارب یونٹس سستی پن بجلی قومی گرڈ میں شامل کرے گا۔ تربیلا ڈیم کے ٹنل نمبر 5 پر تعمیر ہونے والے اس منصوبے کے لیے عالمی بینک کی جانب سے 39 کروڑ ڈالر اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معین وٹو نے کہا کہ پن بجلی پاکستان کی کم لاگت توانائی پالیسی کا مرکزی ستون ہے اور حکومت واپڈا کو ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل معاونت فراہم کر رہی ہے۔ "ہم صاف، سبز اور پائیدار توانائی کی طرف منتقلی کو ترجیح دے رہے ہیں، تاکہ نہ صرف صارفین کو ریلیف ملے بلکہ ملکی معیشت بھی مستحکم ہو،” انہوں نے کہا۔

دورے کے دوران وزیر نے منصوبے کے سات کلیدی حصوں کا جائزہ لیا، جن میں پاور انٹیک، پین اسٹاک، کنیکٹنگ ٹنل اور پاور ہاؤس شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور 2026 میں بجلی کی پیداوار کا آغاز متوقع ہے۔

وزیر نے کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔ "ہر یونٹ پن بجلی جو ہم نظام میں شامل کریں گے، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کو کم کرے گا،” انہوں نے مزید کہا۔

منصوبے کی تفصیلات کے ساتھ، وزیر نے دیگر اہم واپڈا منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ مہمند ڈیم کی تکمیل 2027–28 تک متوقع ہے، جبکہ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم، دیامر بھاشا ڈیم کو اس کے حجم اور پیچیدگی کے باعث مکمل ہونے میں مزید وقت درکار ہوگا۔

معین وٹو نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر نگرانی وفاقی حکومت آبی ذخائر میں اضافہ، توانائی کی ملکی پیداوار میں بہتری اور معاشی خود کفالت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ "وزیراعظم خود ان منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں، اور ہم باقاعدگی سے اجلاس منعقد کر رہے ہیں تاکہ رکاوٹیں دور کی جا سکیں،” وزیر نے بتایا۔

واپڈا چیئرمین نوید اصغر چوہدری نے کہا کہ عالمی کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے فی یونٹ لاگت متاثر ہو سکتی ہے، لیکن ادارہ منصوبے کو مقررہ وقت اور بجٹ میں مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ "ہم پوری محنت سے کام کر رہے ہیں تاکہ جلد از جلد یہ منصوبہ قوم کے حوالے کیا جا سکے،” انہوں نے کہا۔ تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبہ پاکستان کے توانائی کے مستقبل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب ملک میں سستی اور قابل اعتماد بجلی کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد، یہ منصوبہ نہ صرف قومی گرڈ کو مستحکم کرے گا بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار میں بھی نمایاں کمی لائے گا

More From Author

پاکستان آسیان فورم میں شرکت کے لیے تیار، اسحاق ڈار اہم علاقائی مذاکرات کے لیے ملیشیا روانہ

Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے