بیجنگ نے پاک فوج کو "چین–پاکستان دوستی کا مستقل محافظ” قرار دیا

اسلام آباد، 24 اگست – چین کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے پاک فوج کو "قومی استحکام کا ستون” اور "چین–پاکستان دوستی کا مستقل محافظ” قرار دیا۔ یہ بیان 21 اگست کو اسلام آباد میں چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

بیجنگ سے جاری اعلامیے کے مطابق، وانگ یی نے اس موقع پر پاک فوج کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جو دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین اور پاکستان کے درمیان مزید مضبوط تعاون نہ صرف خطے میں پائیدار امن کے قیام بلکہ استحکام کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر چین کو پاکستان کا "آہنی دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی شراکت داری "چٹان کی طرح مضبوط” ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں چین کے مستقل تعاون پر شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ یہ دوستی پاکستانی عوام کی وسیع تر حمایت کی حامل ہے۔ آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید فروغ دینے اور پاکستان میں موجود چینی شہریوں اور منصوبوں کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کے عزم کو بھی دہرایا۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے اپنی "ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری” کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

یہ ملاقات چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کے تین روزہ سرکاری دورہ پاکستان کے دوران ہوئی، جو ڈپٹی وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر کیا گیا۔ اس دوران وانگ یی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نئے سفارتی اتحادوں اور تعلقات کی ازسرنو تشکیل کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ دوسری طرف بھارت اور واشنگٹن کے تعلقات میں نمایاں سردمہری دیکھنے میں آئی ہے۔ اسی دوران بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو ازسرنو استوار کرنے کی کوششوں نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔

ماہرین کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ چین کی بھارت سے بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں شاید پاکستان کے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے ہوں۔ تاہم، وانگ یی اور اسحاق ڈار دونوں نے ایسی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان–چین تعلقات دہائیوں کے امتحان سے گزرے ہیں اور یہ کسی بیرونی دباؤ یا اتحاد کے تابع نہیں۔ دونوں ممالک نے مشترکہ پیغام دیا کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے باوجود ان کی "آہنی اور ہمہ موسمی شراکت داری” پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اور چین–پاکستان دوستی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں بدستور مرکزیت رکھتی ہے

More From Author

بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے باوجود پاکستان کو سیلاب سے متعلق انتباہ جاری کیا

پاکستان کا بھارت کو سیلابی وارننگ پر سندھ طاس معاہدے کو نظرانداز کرنے پر احتجاج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے