اسلام آباد — پاکستان کی کمزور اتحادی حکومت ایک بار پھر شدید دباؤ میں آ گئی ہے، جب سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا تاکہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت سے بڑھتے اختلافات کے تناظر میں اپنی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔
اس اختلاف کا مرکز وہ تنازع ہے جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے وفاقی امدادی فنڈز کی تقسیم پر پیدا ہوا ہے۔ ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد اموات کے بعد، پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے تقسیم کی جائے جو بلاول کی والدہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب ایک فلاحی منصوبہ ہے جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے صوبائی سروے اور اعدادوشمار کو بنیاد بنانے پر اصرار کر رہی ہے۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز — جو سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی بھتیجی ہیں نے اپنے صوبے کے پانی کے وسائل پر حقِ ملکیت کا دفاع کیا۔ ان کے بیان نے سندھ کی پیپلز پارٹی کی قیادت کو شدید برہم کر دیا، جو طویل عرصے سے پنجاب پر الزام لگاتی آئی ہے کہ وہ دریائے سندھ کے پانی پر اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے جو ملک کی زراعت اور معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
پیپلز پارٹی نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 18 اکتوبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں طلب کیا گیا ہے، جہاں "ملکی سیاست کے حوالے سے اہم فیصلے” کیے جائیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتحاد میں پیپلز پارٹی کے کردار پر نظرِثانی اور حکومت کے حوالے سے آئندہ حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔
صدر آصف علی زرداری، جو اپنے بیٹے بلاول کے ساتھ پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں، نے بھی وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو — جنہیں فوجی قیادت کے قریب سمجھا جاتا ہے — کراچی طلب کیا ہے تاکہ معاملات کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ بدھ کی شام صدر زرداری نے نواب شاہ میں محسن نقوی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی، جسے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ترجمان ندیم افضل چن نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اجلاس میں "اتحاد کے مستقبل” پر غور کرے گی۔
“ہم نے چند اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد، سیلاب متاثرین کے لیے بی آئی ایس پی کے اعدادوشمار کا استعمال، اور کسانوں کے لیے خصوصی امدادی پیکیج شامل ہیں۔ پارٹی ان مطالبات پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔”
دوسری جانب، وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری، جو مریم نواز کی قریبی ساتھی سمجھی جاتی ہیں، نے پیپلز پارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے معافی کے مطالبے کو بے بنیاد قرار دیا۔
“پنجاب حکومت کو ہدایات دینا یا اس کے انتظامی معاملات میں مداخلت ناقابلِ قبول ہے،” انہوں نے کہا۔ “ہمارے اتحادی مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ حکومت اور وزیراعلیٰ کا اختیار ہے کہ وہ اسے مانے یا نہ مانے۔ یہ تجاویز بلیک میلنگ کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہئیں۔”
عظمیٰ بخاری نے وضاحت کی کہ بی آئی ایس پی کے اعدادوشمار اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ڈیٹا ایک جیسا نہیں ہے۔
“پنجاب حکومت خود نقصان کا اندازہ لگا رہی ہے فصلوں، مویشیوں اور جائیداد کے نقصانات سمیت۔ مریم نواز کیوں معافی مانگیں؟ وہ پنجاب کے حقوق کا دفاع کر رہی ہیں، اور اس پر شرمندہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔”
اگرچہ اپوزیشن جماعتیں بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا مشورہ دے رہی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی اقدام فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔
فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئے، مگر حکومت بنانے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکومت قائم کی، جسے سیاسی مبصرین کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ تنازع آخرکار ٹھنڈا پڑ جائے گا۔
“یہ اختلافات وقتی ہیں کیونکہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے،” معروف صحافی مظہر عباس نے کہا۔ “ممکن ہے مریم نواز معافی نہ مانگیں، لیکن کوئی وضاحتی بیان معاملات کو نرم کر سکتا ہے۔”
سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔
“یہ شور شرابہ آخرکار صلح پر ہی ختم ہوگا،” انہوں نے کہا۔ “کوئی معافی نہیں ہوگی، بس ایک اور سیاسی سمجھوتہ ہو جائے گا یہی ہمارا سیاسی کلچر ہے۔”
فی الحال، اتحادی حکومت میں جاری کشمکش واضح طور پر اس نازک توازن کو بے نقاب کر رہی ہے جو پاکستان کی موجودہ سیاسی بساط کو استحکام دینے کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر قائم ہے۔