بھارت کا پاکستان سے فضائی جھڑپ میں لڑاکا طیاروں کے نقصان کا اعتراف

پاکستان کے ساتھ مئی میں ہونے والی 86 گھنٹوں پر محیط فضائی جھڑپ کے بعد پہلی بار کسی بھارتی دفاعی اہلکار نے سرِعام اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بھارتی فضائیہ (IAF) کو اس تصادم میں طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

انڈونیشیا میں ہونے والے ایک علمی سیمینار کے دوران بھارتی دفاعی اتاشی، کیپٹن شیو کمار نے کہا کہ بھارتی فضائیہ نے 7 مئی کی شب کچھ طیارے کھوئے — یہ وہی رات تھی جب بھارتی لڑاکا طیاروں نے مبینہ طور پر پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جس پر پاکستان نے فوری جوابی کارروائی کی۔

یہ سیمینار "پاک-بھارت فضائی جھڑپ کا تجزیہ اور انڈونیشیا کے فضائی طاقت کے تناظر میں حفاظتی اقدامات” کے عنوان سے یونیورسٹاس دیرگانتارا مارسکال سوریادھارما میں منعقد ہوا، جس میں کئی علاقائی دفاعی تجزیہ کار شریک ہوئے۔

کیپٹن کمار نے طیاروں کے نقصان کی ذمہ داری نئی دہلی کی سیاسی قیادت کی جانب سے دی گئی "پابند ہدایات” پر ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی پائلٹس کو ہدایت تھی کہ وہ کسی پاکستانی فوجی تنصیب کو نشانہ نہ بنائیں تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔

"ہم پر کچھ حد بندیاں تھیں،” انہوں نے کہا، جس سے عندیہ ملا کہ ان ہدایات نے بھارتی طیاروں کو کمزور کر دیا۔

قبل ازیں، بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف، جنرل انیل چوہان نے بھی سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر بلومبرگ ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مئی میں ہونے والے تصادم کے دوران بھارت کے کچھ لڑاکا طیارے تباہ ہوئے۔ تاہم، انہوں نے مخصوص اعداد و شمار بتانے سے گریز کیا اور پاکستان کے چھ بھارتی طیارے گرانے کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

جنرل چوہان کا کہنا تھا، "اصل بات یہ نہیں کہ کتنے طیارے گرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرے۔ تعداد اہم نہیں — پس منظر اہم ہے۔”

تاہم، بھارت کے اندر سے کچھ آوازیں قدرے واضح موقف سامنے لا چکی ہیں۔ 30 مئی کو بی جے پی کے سینئر رہنما سبرامنیم سوامی نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں بھارت کے جدید ترین رافیل لڑاکا طیارے بھی شامل تھے۔

باوجود اس کے، بھارت کا عسکری حلقہ اب تک سرکاری طور پر طیاروں کے نقصان کی تفصیلات دینے سے گریزاں ہے — اور یہی خاموشی اس بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہے کہ بھارتی فضائیہ کو اصل میں کتنا نقصان پہنچا۔

یاد رہے کہ مئی میں ہونے والا یہ فضائی تصادم حالیہ برسوں میں پاک بھارت کشیدگی کا ایک سنگین باب تھا، جس نے دنیا بھر میں جوہری تصادم کے خدشات کو جنم دیا۔ اگرچہ اب صورتحال نسبتاً پر سکون ہو چکی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اس مختصر مگر شدید مڈبھیڑ پر لفظی گولہ باری اب بھی جاری ہے۔

 

More From Author

ایران کے فوجی سربراہ کا اسرائیل سے جنگ کے دوران حمایت پر پاکستان کا شکریہ

کراچی میں لڑکی کی پروفائل تصویر پر جھگڑے کے دوران نوجوان جاں بحق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے