اسلام آباد، 25 اگست 2025 – بھارت نے سندھ طاس معاہدے (IWT) کے تحت پاکستان کو سیلاب کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جموں کے قریب دریائے توی میں شدید طغیانی کا امکان ہے۔ یہ انتباہ 24 اگست کی صبح 10 بجے باضابطہ طور پر معاہدے کے طے شدہ چینلز کے ذریعے اسلام آباد کو موصول ہوا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب نئی دہلی نے چند ماہ قبل ہی سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے باوجود بھارت کے ہائی کمیشن نے اسلام آباد کو سیلاب کی اطلاع فراہم کی، جسے حکام معاہدے کی شقوں کے تحت ایک ’’لازمی ذمہ داری‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
یہ معاملہ پاک-بھارت تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اپریل میں بھارت نے نہ صرف اس تاریخی معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا تھا بلکہ بھارت میں مقیم پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ اسی دوران اٹاری اور واہگہ بارڈر بند کر دیے گئے اور پاکستانی شہریوں کے لیے سارک ویزا چھوٹ کی سہولت بھی ختم کر دی گئی۔
یاد رہے کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان چند فعال معاہدوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم مغربی دریاؤں پر بھارتی آبی ذخائر کی تعمیر کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، جسے پاکستان نے 2016 میں ثالثی کی عالمی عدالت میں اٹھایا۔ بھارت نے اس کے جواب میں ایک غیر جانب دار ماہر کے تقرر کی درخواست کی، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے تازہ انتباہ بظاہر معاہدے کے تقاضوں پر کسی حد تک عملدرآمد کو ظاہر کرتا ہے، تاہم موجودہ سیاسی اور سفارتی تناؤ کے پیشِ نظر معاہدے کا مستقبل بدستور غیر یقینی ہے