پاکستان اس وقت بے روزگاری میں ایک تشویشناک اضافے کا سامنا کر رہا ہے، جہاں 2020–21 میں 45 لاکھ بے روزگار افراد کی تعداد 2024–25 میں بڑھ کر 59 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ یعنی صرف چند برسوں میں تقریباً 14 لاکھ مزید لوگ روزگار کے بغیر رہ گئے ہیں، جو ملکی روزگار کے بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
یہ مسئلہ کسی ایک عمر یا جنس تک محدود نہیں رہا۔ مرد، خواتین اور مختلف عمر کے افراد سب ہی اس بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری پر ہے۔ 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح 11.1 فیصد سے بڑھ کر 12.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئے گریجویٹس اور نوجوان روزگار تلاش کرنے میں پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
حکومتی نمائندوں، جن میں وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال بھی شامل ہیں، نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ہنر سکھانے کے مؤثر پروگرام شروع کرنے اور لیبر مارکیٹ کو سہارا دینے والی مضبوط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جامع اور دیرپا حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے گھریلو مالی دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق تکنیکی مہارتوں تک بہتر رسائی، چھوٹے کاروباروں کی معاونت، کاروباری مواقع کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا اس بحران کو کم کر سکتا ہے—تاہم اس کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر سنجیدہ اور مستقل بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔