بٹ کوائن نے پیر کے روز اپنی تاریخ میں پہلی بار $120,000 کی حد عبور کر لی، جس کی بنیادی وجہ امریکہ میں کرپٹو کرنسی کے شعبے کیلئے متوقع پالیسی کامیابیاں بتائی جا رہی ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت بڑھ کر ریکارڈ $122,571.19 تک پہنچ گئی، تاہم اس کے بعد یہ قدرے کم ہوکر $121,952.61 پر ٹریڈ کرنے لگی، جو دن کے حساب سے 2.4 فیصد زیادہ تھی۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی ایوان نمائندگان آج ایک اہم اجلاس میں ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے طویل عرصے سے زیر التوا قوانین پر بحث کرنے جا رہا ہے۔ کرپٹو انڈسٹری عرصے سے شفاف اور واضح قواعد و ضوابط کا مطالبہ کر رہی تھی تاکہ سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کرپٹو انڈسٹری کی حمایت میں سامنے آئے ہیں اور انہوں نے خود کو ’’کرپٹو صدر‘‘ قرار دیتے ہوئے ایسی پالیسیاں بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو ڈیجیٹل اثاثوں کیلئے سازگار ہوں۔
آئی جی مارکیٹس کے اینالسٹ ٹونی سائے کامور نے کہا، ’’فی الحال بٹ کوائن کو متعدد مثبت عوامل کا سہارا حاصل ہے۔ مضبوط ادارہ جاتی طلب، مستقبل میں مزید اضافے کی توقعات، اور ٹرمپ کی کھلی حمایت اس تیزی کی بڑی وجوہات ہیں۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’’گزشتہ ہفتے بٹ کوائن کی قدر میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور فی الحال اس کی رفتار کو بریک لگتی نظر نہیں آ رہی۔ لگتا ہے کہ یہ جلد ہی $125,000 کی سطح کو بھی چھو لے گی۔‘‘
سال کے آغاز سے اب تک بٹ کوائن کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، اور اس حالیہ تیزی نے کرپٹو مارکیٹ کے دیگر کوائنز کو بھی اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے، حالانکہ ٹرمپ کی مجوزہ تجارتی پابندیوں پر خدشات موجود ہیں۔
ایتھریم، جو بٹ کوائن کے بعد دوسری سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، اس کی قیمت بھی پانچ ماہ کی بلند ترین سطح $3,059.60 تک جا پہنچی، جبکہ ایکس آر پی اور سولانا میں بھی تقریباً 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی مجموعی مالیت اب بڑھ کر تقریباً $3.81 ٹریلین ہو چکی ہے، جیسا کہ کوائن مارکیٹ کیپ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
او کے ایکس سنگاپور کی سی ای او گریسی لن نے کہا، ’’قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب بٹ کوائن کو طویل المدتی ریزرو اثاثے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ صرف ریٹیل اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے بلکہ بعض مرکزی بینک بھی اس کو اہمیت دینے لگے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ایشیا کے سرمایہ کاروں بشمول فیملی آفسز اور ویلتھ مینیجرز کی جانب سے بھی بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھ رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بٹ کوائن کی عالمی مالیاتی نظام میں حیثیت مستحکم ہو رہی ہے اور یہ محض کسی وقتی جوش کا نتیجہ نہیں۔‘‘
اس ہفتے کو واشنگٹن میں ’’کرپٹو ویک‘‘ قرار دیا گیا ہے، جہاں امریکی کانگریس تین اہم بلز پر ووٹنگ کرے گی، جن میں جینئیس ایکٹ، کلیئرٹی ایکٹ، اور اینٹی سی بی ڈی سی سرویلنس اسٹیٹ ایکٹ شامل ہیں۔ ان میں سب سے اہم جینئیس ایکٹ ہے جو وفاقی سطح پر اسٹیبل کوائنز کیلئے ریگولیٹری فریم ورک بنانے کی تجویز پیش کرتا ہے۔
ادھر ہانگ کانگ میں بھی کرپٹو ای ٹی ایف میں تیزی دیکھی گئی، جہاں چائنا اے ایم سی، ہارویسٹ اور بوسرا کے شروع کردہ بٹ کوائن ای ٹی ایف کی قیمتیں پیر کے روز ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ انہی کمپنیوں کے ایتھریم ای ٹی ایف میں بھی 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔