کراچی — 25 جولائی بند دروازوں کے پیچھے ظلم کی داستان: نو عمر دلہن شوہر کے اعتراف کے بعد جان کی بازی ہار گئی
کراچی — 25 جولائی 2025
لیاری سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ نو بیاہتا لڑکی بدھ کے روز کراچی کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئی۔ وہ پچھلے بیس دنوں سے کومے میں تھی—اور اس کی حالت کا ذمہ دار اس کا شوہر ہے، جس نے عدالت میں ازدواجی زیادتی اور تشدد کا اعتراف کیا ہے۔
ملزم، جس کا نام اشوک بتایا گیا ہے، نے اپنے جرم کا اعتراف ضلع جنوبی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت قلمبند کروایا۔ عدالت نے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
پولیس کے مطابق لڑکی کی شادی 15 جون کو ہوئی تھی، لیکن صرف دو دن بعد ہی وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں وحشیانہ جنسی تشدد اور مبینہ طور پر لوہے کی راڈ سے حملے کا شکار بنی۔ اندرونی زخم اتنے شدید تھے کہ اس کی حالت تیزی سے بگڑتی گئی۔ پہلے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا، بعدازاں اسے شہید محترمہ بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں وہ بیس دن کومے میں رہنے کے بعد چل بسی۔
ایک پولیس سرجن نے میڈیکل معائنے کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق کی کہ متاثرہ پر جنسی تشدد کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا:
"زخموں کی نوعیت واضح طور پر بتا رہی تھی کہ یہ محض ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ مسلسل ظلم تھا۔”
متاثرہ کے بھائی کی مدعیت میں 5 جولائی کو بغدادی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں شروع میں دفعہ 324 (اقدام قتل) اور دفعہ 376-B (زیادتی) شامل کی گئی تھیں۔ اب متاثرہ کی وفات کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں دفعہ 302 (قتل) کا اضافہ کیا جائے گا۔
شکایت کنندہ کے مطابق، لڑکی نے شادی کے بعد اپنے والدین کو بتایا تھا کہ اس پر بارہا غیر فطری جنسی عمل کیے گئے، جسمانی تشدد ہوا، اور دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اُس نے کسی کو بتایا تو نتائج سنگین ہوں گے۔
یہ واقعہ نہ صرف لیاری کی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ گیا ہے بلکہ ایک بار پھر پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم پر قانون سازی کے مؤثر نفاذ کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ قوانین زیادتی پر سزائے موت یا 10 سے 25 سال قید کی سزا تجویز کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود ایسے لرزہ خیز واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔
اورنگی ٹاؤن کا المیہ: سات بچوں کی ماں شوہر کے ہاتھوں قتل
ایک اور افسوسناک واقعے میں، اورنگی ٹاؤن کی ایک رہائشی خاتون کو اس کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔ مقتولہ کی شناخت ملیکیت بی بی کے طور پر ہوئی ہے، جو سات بچوں کی ماں تھیں۔ پولیس کے مطابق، انہیں سوتے میں اینٹ سے سر پر وار کر کے، اور بعد ازاں گلا کاٹ کر قتل کیا گیا۔
پیرآباد تھانے کے ایس ایچ او نے بتایا کہ قتل کا مرکزی ملزم شوہر شعیب ہے، جو واقعے کے بعد فرار ہو گیا۔ گھر میں پہلے سے گھریلو جھگڑوں کی شکایات موصول ہو چکی تھیں۔
یہ مسلسل دو دنوں میں پیش آنے والے دو دردناک واقعات ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ
"ازدواجی اور گھریلو تشدد کے بارے میں معاشرے کی خاموشی، خواتین کی جانیں لے رہی ہے۔”
اکثر اوقات متاثرہ خواتین کو یا تو شرمندگی کے باعث خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں ایسا ادارہ جاتی سہارا میسر نہیں آتا جو انہیں محفوظ مستقبل دے سکے۔
ایک مقامی خواتین شیلٹر کی نمائندہ کا کہنا تھا:
"قانون تو موجود ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ جب تک ریاست سنجیدگی سے ایسے جرائم کا نوٹس نہیں لیتی، یہ ‘واقعات’ ایک بڑے اور گہرے مسئلے کی علامات ہیں۔” تحقیقات دونوں واقعات میں جاری ہیں، لیکن اہم سوال یہ ہے:
آخر کب تک عورتیں اپنے گھروں کے اندر ظلم سہتی رہیں گی؟ اور کب ریاست، معاشرہ اور قانون اس ظلم کو ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی سانحہ مان کر عملی اقدام کریں گے؟2025
لیاری سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ نو بیاہتا لڑکی بدھ کے روز کراچی کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئی۔ وہ پچھلے بیس دنوں سے کومے میں تھی—اور اس کی حالت کا ذمہ دار اس کا شوہر ہے، جس نے عدالت میں ازدواجی زیادتی اور تشدد کا اعتراف کیا ہے۔
ملزم، جس کا نام اشوک بتایا گیا ہے، نے اپنے جرم کا اعتراف ضلع جنوبی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت قلمبند کروایا۔ عدالت نے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
پولیس کے مطابق لڑکی کی شادی 15 جون کو ہوئی تھی، لیکن صرف دو دن بعد ہی وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں وحشیانہ جنسی تشدد اور مبینہ طور پر لوہے کی راڈ سے حملے کا شکار بنی۔ اندرونی زخم اتنے شدید تھے کہ اس کی حالت تیزی سے بگڑتی گئی۔ پہلے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا، بعدازاں اسے شہید محترمہ بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں وہ بیس دن کومے میں رہنے کے بعد چل بسی۔
ایک پولیس سرجن نے میڈیکل معائنے کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق کی کہ متاثرہ پر جنسی تشدد کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا:
"زخموں کی نوعیت واضح طور پر بتا رہی تھی کہ یہ محض ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ مسلسل ظلم تھا۔”
متاثرہ کے بھائی کی مدعیت میں 5 جولائی کو بغدادی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں شروع میں دفعہ 324 (اقدام قتل) اور دفعہ 376-B (زیادتی) شامل کی گئی تھیں۔ اب متاثرہ کی وفات کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں دفعہ 302 (قتل) کا اضافہ کیا جائے گا۔
شکایت کنندہ کے مطابق، لڑکی نے شادی کے بعد اپنے والدین کو بتایا تھا کہ اس پر بارہا غیر فطری جنسی عمل کیے گئے، جسمانی تشدد ہوا، اور دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اُس نے کسی کو بتایا تو نتائج سنگین ہوں گے۔
یہ واقعہ نہ صرف لیاری کی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ گیا ہے بلکہ ایک بار پھر پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم پر قانون سازی کے مؤثر نفاذ کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ قوانین زیادتی پر سزائے موت یا 10 سے 25 سال قید کی سزا تجویز کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود ایسے لرزہ خیز واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔
اورنگی ٹاؤن کا المیہ: سات بچوں کی ماں شوہر کے ہاتھوں قتل
ایک اور افسوسناک واقعے میں، اورنگی ٹاؤن کی ایک رہائشی خاتون کو اس کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔ مقتولہ کی شناخت ملیکیت بی بی کے طور پر ہوئی ہے، جو سات بچوں کی ماں تھیں۔ پولیس کے مطابق، انہیں سوتے میں اینٹ سے سر پر وار کر کے، اور بعد ازاں گلا کاٹ کر قتل کیا گیا۔
پیرآباد تھانے کے ایس ایچ او نے بتایا کہ قتل کا مرکزی ملزم شوہر شعیب ہے، جو واقعے کے بعد فرار ہو گیا۔ گھر میں پہلے سے گھریلو جھگڑوں کی شکایات موصول ہو چکی تھیں۔
یہ مسلسل دو دنوں میں پیش آنے والے دو دردناک واقعات ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ
"ازدواجی اور گھریلو تشدد کے بارے میں معاشرے کی خاموشی، خواتین کی جانیں لے رہی ہے۔”
اکثر اوقات متاثرہ خواتین کو یا تو شرمندگی کے باعث خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں ایسا ادارہ جاتی سہارا میسر نہیں آتا جو انہیں محفوظ مستقبل دے سکے۔
ایک مقامی خواتین شیلٹر کی نمائندہ کا کہنا تھا:
"قانون تو موجود ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ جب تک ریاست سنجیدگی سے ایسے جرائم کا نوٹس نہیں لیتی، یہ ‘واقعات’ ایک بڑے اور گہرے مسئلے کی علامات ہیں۔” تحقیقات دونوں واقعات میں جاری ہیں، لیکن اہم سوال یہ ہے:
آخر کب تک عورتیں اپنے گھروں کے اندر ظلم سہتی رہیں گی؟ اور کب ریاست، معاشرہ اور قانون اس ظلم کو ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی سانحہ مان کر عملی اقدام کریں گے؟