لاہور:
سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ حکام نے بتایا ہے کہ 42 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی ادویات کی خریداری کا ریکارڈ غائب ہے۔
سال 2021-22 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق پنجاب لیبر ڈیپارٹمنٹ مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (PESSI) کی جانب سے صرف جزوی دستاویزات پیش کی گئیں، جو آڈٹ حکام کے مطابق خریداری کے عمل میں شفافیت ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
آڈٹ حکام نے ہدایت کی ہے کہ ایسے ملازمین کی نشاندہی کی جائے جنہوں نے ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔
دوسری جانب، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی-ٹو کے چیئرمین علی حیدر گیلانی نے لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ابتدائی انکوائری پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری لیبر کو معاملے کی دوبارہ تحقیقات کی ہدایت دی۔ علی حیدر گیلانی نے کہا کہ ادویات کی خریداری کے لیے ایک مؤثر اور شفاف نظام وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا عوامی فنڈز کے غلط استعمال سے بچا جا سکے