بحریہ ٹاؤن کی قانونی اور مالی مشکلات: ملک ریاض کا سنجیدہ مذاکرات کی اپیل

اسلام آباد – 6 اگست 2025:
ملک کے معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کو درپیش سنگین قانونی اور مالی مسائل کے تناظر میں ایک جذباتی بیان جاری کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے "سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل” کی اپیل کی ہے۔

ان کی یہ اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی مجوزہ نیلامی کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یہ جائیدادیں معروف £190 ملین کیس کے سلسلے میں پلی بارگین معاہدے کے تحت ضبط کی گئی تھیں، جو ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض پر بڑھتی ہوئی قانونی گرفت کی عکاسی کرتا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ ریاض خاندان نے اس مقدمے میں پلی بارگین کی تھی، لیکن وہ اپنی مالی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد نیب نے بحریہ ٹاؤن کی متعدد جائیدادوں کی تفصیلات طلب کیں تاکہ نیب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 33E کے تحت رقم کی وصولی کے لیے ان کی نیلامی کی جا سکے۔

یہ تنازع کوئی نیا نہیں۔ 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ £190 ملین کے تصفیے پر اتفاق کیا تھا، جس کی رقم بعد ازاں پاکستان کی سپریم کورٹ کو منتقل کی گئی — نہ کہ قومی خزانے کو۔ اسی سال، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن سے کراچی کے مضافات میں غیر قانونی طور پر حاصل کردہ زمین کے عوض 460 ارب روپے کے تصفیے کی پیشکش منظور کی تھی۔

تاہم اس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سست روی کا شکار رہا۔ 20 اکتوبر 2023 کو جاری کردہ عدالتی حکم نامے کے مطابق، بحریہ ٹاؤن اب تک صرف 60.72 ارب روپے ادا کر سکا ہے، جن میں سے صرف 24.26 ارب روپے براہِ راست کمپنی نے جمع کرائے۔

آج ایک بیان میں، ملک ریاض نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:
"دل کی گہرائیوں سے آخری اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں سنجیدہ بات چیت اور باوقار حل کا موقع دیا جائے۔”

انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ اگر کسی غیر جانبدار ثالثی کے نتیجے میں ان پر ادائیگی کی کوئی شرط عائد کی گئی، تو وہ اسے پورا کریں گے:
"ہم پوری نیت اور سنجیدگی سے اس پر عمل درآمد کریں گے، ان شاء اللہ۔”

ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کی موجودہ مالی صورت حال کو بھی نہایت تشویش ناک قرار دیا۔ ان کے مطابق،
"ہماری کیش فلو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ روزمرہ کی سروسز فراہم کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے، ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں دینا بھی ممکن نہیں رہا۔ ہم ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی سرگرمیاں بند کرنے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔”

گزشتہ ماہ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کیے تھے، جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں واقع چھ جائیدادوں کی نیلامی پر سے حکم امتناع ہٹانے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس سے قبل جون میں، نیب نے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں مختلف افراد کے نام پر رجسٹرڈ 450 سے زائد جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ بعد ازاں، عدالت نے 12 جون کو ہونے والی مجوزہ نیلامی کو حکمِ امتناع جاری کر کے روک دیا تھا۔

تمام تر دباؤ اور مقدمات کے باوجود، ملک ریاض نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان کے ریاستی ادارے "انصاف، فہم و فراست اور دانشمندی” سے کام لیتے ہوئے اس نازک مرحلے سے ملک کو نکالنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

More From Author

ترکی نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیسوں میں تبدیلی کا اعلان کر دیا

قومی اسمبلی کا یومِ استحصال پر کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے