پاکستان میں ایک نیا اور انوکھا فیشن تیزی سے مقبول ہو رہا ہے “سیٹ بیلٹ ٹی شرٹ”۔ یہ ایسی شرٹ ہے جس پر کالے رنگ کی پٹی بنی ہوتی ہے جو دیکھنے میں بالکل اصلی سیٹ بیلٹ جیسی لگتی ہے، اور ڈرائیور اسے پہن کر یہ تاثر دیتے ہیں جیسے وہ سیٹ بیلٹ باندھے ہوئے ہیں۔
ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد یہ فیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس پر صارفین مزاحیہ ویڈیوز اور تصویریں شیئر کر رہے ہیں جن میں وہ “سیفٹی” کے ساتھ گاڑی چلاتے نظر آتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ان کی سیٹ بیلٹ صرف پرنٹ کی ہوئی ہوتی ہے۔
یہ رجحان اس وقت سامنے آیا جب حکام نے کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں ای چالان سسٹم نافذ کیا۔ اب جدید کیمرے ایسے ڈرائیورز کو خود بخود شناخت کر لیتے ہیں جو سیٹ بیلٹ نہیں باندھتے، موبائل فون استعمال کرتے ہیں یا سگنل توڑتے ہیں، اور ان کے جرمانے براہ راست گھر کے پتے پر بھیج دیے جاتے ہیں۔
کراچی میں اب تک درجنوں ڈرائیورز جن میں کچھ سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیورز بھی شامل ہیں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے جا چکے ہیں۔ جرمانوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے کئی شہریوں کو "دیسی چالاکیاں” آزمانے پر مجبور کر دیا، اور یوں “سیٹ بیلٹ ٹی شرٹ” ایک وائرل ٹرک بن گئی۔
سوشل میڈیا پر اگرچہ کچھ لوگ اس خیال کو مزاحیہ اور تخلیقی قرار دے رہے ہیں، لیکن سڑکوں کی حفاظت کے ماہرین اور حکام نے اسے خطرناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے طریقے نہ صرف غیر محفوظ ہیں بلکہ جدید کیمرے حقیقت میں باندھی گئی سیٹ بیلٹ کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹریفک حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے فریب سے گریز کریں اور اصل سیفٹی بیلٹ استعمال کریں۔ ایک افسر نے کہا، “پرنٹ کی ہوئی بیلٹ جان نہیں بچاتی، اصلی بیلٹ بچاتی ہے۔”
پیغام بالکل واضح ہے قانون کو دھوکا دینا آسان ہو سکتا ہے، لیکن زندگی کی حفاظت کسی چال سے نہیں، صرف احتیاط سے ممکن ہے۔