اسلام آباد:
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں 23 سے 30 اگست کے دوران موسلا دھار بارشوں اور ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ سیاحوں کو شمالی علاقوں کا سفر مؤخر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
این ای او سی (نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر) کے مطابق اس دوران تین بارش بردار سسٹم پاکستان میں داخل ہوں گے، جو شدید بارشوں، نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پہاڑی خطوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔
شمالی اور وسطی پاکستان
23 سے 27 اگست کے دوران اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں طوفانی بارشوں کے ساتھ تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات ہیں۔
پنجاب کے راولپنڈی اور گردونواح میں شدید بارشوں کی توقع ہے، جب کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے پشاور، سوات، چترال اور ہزارہ ڈویژن میں بھی شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا اندیشہ ہے۔ گلگت، اسکردو اور ہنزہ میں بارشیں رابطہ سڑکوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
سندھ اور بلوچستان
27 سے 30 اگست تک سندھ کے ساحلی اضلاع — بشمول کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر — میں شدید بارشیں متوقع ہیں جبکہ اندرون سندھ بھی بارشوں سے متاثر ہو سکتا ہے۔
بلوچستان میں 24 سے 25 اگست اور پھر 27 سے 30 اگست کے دوران کوئٹہ، زیارت، ژوب، لورالائی، بارکھان، موسیٰ خیل اور کوہلو میں موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ ڈیرہ مراد جمالی، اُستا محمد، آواران، نصیرآباد اور لہڑی میں اچانک سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔
دریا اور سیلابی صورتحال
ذخائر پہلے ہی گنجائش کے قریب ہیں، ایسے میں دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ دریائے سندھ تونسہ، گڈو اور کالا باغ کے مقامات پر 5 لاکھ کیوسک تک بڑھ سکتا ہے، جبکہ دریائے راوی اور چناب میں بھی طغیانی سے قریبی آبادیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوام کے لیے ہدایات
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ وہ صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور امدادی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ عوام کو خصوصاً سیلابی اور پہاڑی علاقوں میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے سیاحوں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ اس دوران شمالی علاقوں کا سفر نہ کریں تاکہ لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارشوں کے خطرات سے محفوظ رہ سکیں