ایس آئی ایف سی کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکس سرمایہ کاری کو روک رہے ہیں

اسلام آباد: اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکسوں کی بلند شرحیں غیر ملکی سرمایہ کاری کو سخت متاثر کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ پاکستان بزنس کونسل کے دو روزہ معاشی مکالمے کے دوران سامنے آیا، جہاں کاروباری رہنماؤں نے سرمایہ کاری کے ماحول پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔

ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈی نیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے اعتراف کیا کہ کئی صورتوں میں پاکستان کا مؤثر کارپوریٹ ٹیکس ریٹ 50 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ایسے ماحول میں کون سرمایہ کاری کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس مسئلے سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس پر کام ہو رہا ہے، البتہ انہوں نے فوری طور پر کسی اعلان سے گریز کیا۔

اسی دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے واضح کیا کہ ٹیکس شرحوں میں کسی بھی قسم کی کمی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک ٹیکس دہندگان کی جانب سے بہتر کمپلائنس سامنے نہ آئے، کیونکہ ٹیکس میں چھوٹ سے تقریباً 1.6 ٹریلین روپے کا ممکنہ خسارہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات اسی صورت کامیاب ہوں گی جب دستاویزات اور شفافیت میں بہتری آئے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے گزشتہ تین برسوں کی ناکام کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اسی وقت آتی ہے جب مقامی سرمایہ کار اعتماد کا اظہار کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اب حکومتی حکمتِ عملی تبدیل کی جا رہی ہے، اور سب سے پہلے پاکستانی کاروباری شخصیات کو منصوبے پیش کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اپنے سیکٹر کے بڑے لوگ آگے آئیں۔ آپ اپنے منصوبے لائیں، اگر وہ سرمایہ کاری کے قابل ہیں تو ہم پوری مدد کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب کے سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ قابل اعتماد مقامی پارٹنر کی نشاندہی چاہتے ہیں۔

ایک الگ نشست میں چیئرمین ایف بی آر نے کاروباری برادری کو جاری ڈیجیٹل اصلاحات سے آگاہ کیا، جن کا مقصد نظام میں موجود خامیوں کو بند کرنا اور ٹیکس دہندگان کے لیے سہولیات بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سوپر ٹیکس کے خاتمے اور مختلف کارپوریٹ ٹیکس ریٹس میں کمی کا منصوبہ رکھتی ہے، مگر یہ سب بڑھتی ہوئی ٹیکس کمپلائنس سے مشروط ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت 2028 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 18 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے، جس میں ایف بی آر کا حصہ 13.85 فیصد، صوبوں کا 3 فیصد اور باقی حصہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی سے آئے گا۔

تقریب میں پی بی سی کی چیئرپرسن ڈاکٹر زلاف منیر اور سی ای او جاوید قریشی بھی شریک تھے، جنہوں نے معاشی استحکام کے لیے اصلاحات اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

More From Author

کیا اسلام آباد پاکستان کا پہلا کیش لیس شہر بننے جا رہا ہے؟ ہوٹلز، پیٹرول پمپس اور ریسٹورنٹس میں ڈیجیٹل ادائیگیاں شروع

کراچی میں ہنگامی رسائی بہتر بنانے کے لیے پہلی ایمبولینس لین کا آغاز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے