بدھ کے روز عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کار ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی نازک جنگ بندی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ ہلکی سی بہتری ایسے وقت میں آئی ہے جب گزشتہ دو دنوں میں قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی تھی، جو مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خدشات کے باعث تھی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 75 سینٹ (1.1 فیصد) اضافے کے بعد 67.89 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں 71 سینٹ کا اضافہ ہوا اور وہ 65.08 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ اس سے قبل برینٹ 10 جون کے بعد اور WTI 5 جون کے بعد کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا، جب اسرائیل نے اچانک ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔
قیمتوں میں ابتدائی اضافہ اس وقت ہوا جب امریکا نے ہفتے کے آخر میں ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔ اگرچہ ان حملوں سے مارکیٹ میں بےچینی پیدا ہوئی، تاہم ابتدائی امریکی انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق ان حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت کو صرف چند ماہ کے لیے پیچھے دھکیلا جا سکا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی برقرار دکھائی دے رہی ہے، اور دونوں ممالک نے فضائی حملے روکنے کے اشارے دیے ہیں۔ 12 روزہ کشیدگی کے بعد شہری پابندیاں بھی ختم کی گئیں، اور دونوں ممالک نے جنگ میں فتح کا دعویٰ کیا۔ ٹرمپ نے کھل کر دونوں ملکوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا، جس سے کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی۔
اگرچہ صورتحال نسبتاً پر سکون ہے، مگر سرمایہ کار اب بھی فکرمند ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے، جو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان یہ تنگ گزرگاہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایندھن کی ترسیل کا ذریعہ ہے، اور کسی بھی تنازع میں یہ علاقہ فوری متاثر ہو سکتا ہے۔
ادھر سرمایہ کار امریکی تیل ذخائر سے متعلق تازہ اعداد و شمار کا بھی انتظار کر رہے ہیں، جو بدھ کو جاری ہوں گے۔ منگل کو امریکی پٹرولیم انسٹیٹیوٹ (API) کی رپورٹ کے مطابق، 20 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں 42 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے، جو قلیل مدت میں قیمتوں کو سہارا دے سکتی ہے۔