لاہور: 25 نومبر 2025 کو ایئر سیال کی فلائٹ PF787 لاہور میں محفوظ لینڈ ہوئی، مگر اس دوران مسافروں کا سامان مکمل طور پر دبئی میں رہ گیا، جس سے مسافروں میں شدید غصہ اور پریشانی پیدا ہوگئی۔
مسافروں کا کہنا تھا کہ ان کے بیگ میں اہم اشیاء جیسے ادویات، ضروری دستاویزات اور قیمتی سامان موجود تھا۔ جب وہ لاہور پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کا سامان ان کے ساتھ نہیں آیا، جو سب کے لیے حیران کن اور تکلیف دہ تھا۔
لاہور ائرپورٹ پر کئی مسافر جمع ہو کر احتجاج کرتے نظر آئے اور ایئرلائن پر ناقص انتظامات، غیر سنجیدگی اور مناسب معلومات فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا۔ کچھ مسافروں نے کہا کہ ایئر سیال کے عملے نے صاف جواب نہیں دیا کہ یہ غلطی کیسے ہوئی اور سامان کب پہنچایا جائے گا۔
مسافروں کے ساتھ موجود خاندان بھی ناراض تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مسئلے کی اطلاع پہلے دی جاتی تو یہ پریشانی نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ واقعہ تیزی سے پھیل گیا اور مایوس مسافروں کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو گئیں۔
سفر کے ماہرین نے کہا کہ اس طرح کی غلطیاں مسافروں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ کئی صارفین نے مطالبہ کیا کہ ایئر سیال ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے، عملے کی تربیت بہتر بنائے، نظام مضبوط کرے اور مستقبل میں سامان کو محفوظ اور وقت پر پہنچائے۔
اب مسافروں کی نظریں ایئر سیال کی طرف ہیں، جہاں وہ اپنے سامان کی محفوظ ترسیل اور ایسی غلطیوں سے بچاؤ کے وعدوں کا انتظار کر رہے ہیں۔