اسلام آباد – 7 جولائی 2025
پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر بھارت قانونی تقاضے پورے کرے اور تعاون کرے تو پاکستان کو "متنازع افراد” کی حوالگی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بلاول سے سوال کیا گیا کہ کیا حافظ سعید یا مسعود اظہر جیسے ہائی پروفائل افراد کی حوالگی پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتی ہے؟
اس پر بلاول نے جواب دیا، "اگر دہشت گردی مذاکرات کا حصہ ہو اور بھارت قانونی معاملات میں تعاون کرے، تو میرے خیال میں پاکستان کو کسی بھی ایسے اقدام پر اعتراض نہیں ہوگا۔”
حافظ سعید اور مسعود اظہر دونوں پاکستان میں کالعدم قرار دیے جا چکے ہیں — سعید دہشت گردی کی مالی معاونت کے جرم میں 33 سال کی قید کاٹ رہے ہیں، جب کہ اظہر نیکٹا کی فہرست میں شامل ہیں۔
بلاول نے واضح کیا کہ ان افراد کے خلاف اب تک جو مقدمات چلے ہیں وہ پاکستان میں ہونے والے جرائم سے متعلق ہیں، لیکن سرحد پار دہشت گردی کے کیسز میں پیش رفت بھارت کے عدم تعاون کے باعث ممکن نہیں ہو سکی۔
"بھارت نے نہ تو شواہد دیے اور نہ ہی گواہوں کو پاکستان بھیجا تاکہ وہ عدالت میں بیان دے سکیں۔ ان کے بغیر مقدمہ کیسے چلے گا؟” بلاول نے سوال اٹھایا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مسعود اظہر کہاں ہیں تو بلاول نے کہا، "ہمیں یقین ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں۔ اگر بھارت کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ وہ پاکستان میں ہیں، تو ہم فوری کارروائی کریں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حافظ سعید پہلے ہی پاکستانی ریاست کی تحویل میں ہیں۔”
بھارت کے حالیہ جارحانہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے بلاول نے کہا، "نیا نارمل یا یوں کہیے نیا غیر معمولی رویہ یہ ہے کہ بھارت میں کوئی بھی دہشت گردی کا واقعہ ہو، تو اس کا مطلب جنگ ہو جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، "یہ رویہ نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ بھارت کے۔ دو ایٹمی طاقتیں صرف چند افراد کی کارروائیوں پر جنگ کے دہانے پر پہنچ جاتی ہیں — یہ ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔”
بلاول نے ایک بار پھر بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ الزام تراشی اور کشیدگی کے اس چکر کو ختم کرنا ہوگا۔
"ہم ان بے چہرہ دہشت گردوں کو امن یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے، جب کہ حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہیں۔”