مکہ مکرمہ: حرمین شریفین کے امور کی نگران جنرل اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ جمادی الاوّل 1447 ہجری کے دوران عمرہ کی ادائیگی کا اوسط دورانیہ 116 منٹ رہا، جو اس بات کی علامت ہے کہ زائرین کے انتظامات مزید منظم اور مؤثر انداز میں انجام دیے جا رہے ہیں۔
اتھارٹی کی جانب سے کیے گئے تفصیلی سروے کے مطابق، 92 فیصد زائرین نے طوافِ کعبہ مطاف کے علاقے میں مکمل کیا، جو خانہ کعبہ کے گرد مرکزی صحن ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ طواف کا اوسط دورانیہ 42 منٹ رہا، جب کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کے لیے تقریباً 46 منٹ درکار ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق، زائرین کو مسجد الحرام کے بیرونی صحن سے مطاف تک پہنچنے میں 15 منٹ لگے، جب کہ مطاف سے المسعیٰ تک سفر کے لیے 13 منٹ صرف ہوئے۔ حکام کے مطابق مطاف کے حصے میں طواف کا دورانیہ دیگر مقامات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا، جس کی بڑی وجہ بہتر انتظامی اقدامات اور مؤثر ہجوم کنٹرول ہے۔
اتھارٹی نے کہا کہ ان انتظامی بہتریوں کے باعث زائرین کی آمد و رفت میں سہولت پیدا ہوئی ہے، ہجوم میں نمایاں کمی آئی ہے اور عبادت گزاروں کے لیے سکون اور اطمینان کے ماحول کو یقینی بنایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اتھارٹی حرم شریف کے اندر زائرین کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ان کے لیے عبادت کا عمل مزید آسان، محفوظ اور روحانیت سے بھرپور بنایا جا سکے۔
اتھارٹی کے مطابق، مطاف کے علاقے کو صرف عمرہ ادا کرنے والوں کے لیے مخصوص کرنا ازدحام میں کمی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے، جب کہ بالائی منزلوں کو صرف طواف کرنے والوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات، اتھارٹی کے بقول، عمرہ زائرین کے لیے بہتر تنظیم اور پرسکون ماحول فراہم کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔