اٹلی نے پانچ ہزار سال پرانے نوادرات پاکستان کے حوالے کر دیے

اٹلی نے تقریباً پانچ ہزار سال قدیم نوادرات کا ایک قیمتی ذخیرہ پاکستان کو واپس کر دیا ہے، جسے ماہرین نے ملکی ثقافتی ورثے کے تحفظ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

یہ نایاب نوادرات بلوچستان کے تاریخی مقامات، خصوصاً کُلی اور نال کی بستیوں سے چوری کیے گئے تھے، جو ابتدائی کانسی کے دور سے تعلق رکھتے ہیں یعنی وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے بھی پہلے کے زمانے کے ہیں۔ روم میں پاکستانی سفارت خانے کے مطابق، یہ نوادرات 30 اکتوبر 2025 کو بحفاظت پاکستان پہنچ گئے۔

اطالوی حکام نے یہ نوادرات اس وقت قبضے میں لیے تھے جب ایک بین الاقوامی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہیں غیر قانونی طور پر پاکستان سے اسمگل کیا گیا تھا۔

پاکستانی سفارت خانے نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان "گہری دوستی اور شاندار تعاون” کی علامت قرار دیا۔ پاکستان اور اٹلی عرصے سے آثارِ قدیمہ اور تاریخی تحقیق کے میدان میں قریبی تعاون رکھتے ہیں، اور یہ اقدام دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ نوادرات جلد ہی میوزیمز میں نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے تاکہ عوام کو پاکستان کے قدیم ماضی سے روشناس کرایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ قدیم مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مزید قیمتی آثار کی چوری یا اسمگلنگ روکی جا سکے۔

گزشتہ 18 برسوں کے دوران تقریباً 100 تاریخی نوادرات عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان واپس لائے جا چکے ہیں۔ تازہ ترین واپسی اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ پاکستان اور اٹلی دنیا کے ثقافتی ورثے کے تحفظ، بین الاقوامی تعاون کے فروغ، اور غیر قانونی نوادرات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے تاکہ انسانی تاریخ کے یہ انمول خزانے آنے والی نسلوں تک محفوظ رہیں۔

More From Author

27ویں آئینی ترمیم اتحادیوں سے مکمل مشاورت کے بعد پیش کی جائے گی، اسحاق ڈار

پاکستان میں بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، سرحدی کشیدگی کے باوجود بھائی چارے کی مثال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے