کراچی: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 19 جولائی کو ملک بھر میں ہونے والی وہیل جام ہڑتال کو روکنے کیلئے تمام تجارتی تنظیموں کے نمائندوں کو فوری مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ یہ ہڑتال وفاقی بجٹ میں شامل بعض متنازع اقدامات کے خلاف دی جا رہی ہے۔
پیر کو اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کراچی کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ تمام چیمبرز اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز منگل (آج) ان سے ملاقات کریں اور فنانس ایکٹ سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کریں۔
ان کی یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی جب گوڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک شہزاد اعوان اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے صدر جاوید بلوانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 19 جولائی کی ہڑتال کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا، ’’تمام ٹرانسپورٹرز 19 جولائی کو کے سی سی آئی کی ہڑتال میں مکمل شرکت کریں گے۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ہم طویل ہڑتال کے لیے بھی تیار ہیں۔‘‘
کے سی سی آئی نے وفاقی بجٹ میں شامل پانچ بڑے اقدامات اور فنانس ایکٹ کی 32 خامیوں کے خلاف یہ احتجاج کیا ہے۔ جاوید بلوانی نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے یہ اقدامات فوری طور پر معطل نہ کیے تو 19 جولائی کی ہڑتال ہر صورت ہو گی۔
ان اقدامات میں سب سے زیادہ مخالفت فنانس ایکٹ کی شق 37A اور 37B کی کی جا رہی ہے، جس کے تحت ایف بی آر کو مبینہ طور پر من مانی گرفتاریوں کے اختیارات مل گئے ہیں۔ اسی طرح شق 21(S) کے تحت دو لاکھ روپے یا زائد نقد لین دین پر سخت سزاؤں، ایس آر او 709 کے تحت لازمی ڈیجیٹل انوائسنگ اور سیکشن 40(C) کے تحت ای-بلیٹی کے نفاذ پر بھی کے سی سی آئی کو شدید اعتراض ہے۔
OICCI کی تقریب میں وزیر خزانہ نے ان متنازع شقوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اختیارات بڑے پیمانے پر سیلز ٹیکس فراڈ روکنے کیلئے دیے گئے ہیں۔ ’’یہ اضافی اختیارات صرف 5 کروڑ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کے کیسز پر لاگو ہوں گے، عام کاروباری افراد پر نہیں،‘‘ انہوں نے وضاحت کی اور اس تنقید کو ’’پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے قانون میں کئی حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے ہیں تاکہ جائز کاروبار متاثر نہ ہوں۔ ’’تمام چیمبرز موجودہ قانون کا تفصیلی مطالعہ کرکے آئیں، ہم ان کے تحفظات سنیں گے اور ان اقدامات کے مقاصد کی وضاحت کریں گے،‘‘ انہوں نے کہا۔
اس سے قبل جاوید بلوانی نے متنازع شقوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا اور برآمد کنندگان کیلئے فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی کی بھی اپیل کی۔
بلوانی نے بتایا کہ اگرچہ وزارت خزانہ کی جانب سے غیر رسمی رابطے ہو رہے ہیں اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، لیکن تاحال کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا کہ یہ شقیں معطل کی جائیں گی۔ ’’ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان معاملات کو اس وقت تک معطل رکھا جائے جب تک باہمی رضامندی پر مبنی حل نہ نکل آئے،‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ہڑتال ہرگز مؤخر نہیں ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں بلوانی نے کہا کہ ملک بھر کی کاروباری برادری کے سی سی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ ’’پاکستان بھر سے پچاس سے زائد تجارتی تنظیمیں اپنے تحریری پیغامات کے ذریعے ہماری حمایت کا یقین دلا چکی ہیں،‘‘ انہوں نے کہا