امین الدین خان نے نئے قائم ہونے والے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت (FCC) کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھالیا، جو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ اس نئے عدالتی فورم کا قیام ملک میں آئینی نوعیت کے معاملات کو زیادہ مؤثر اور منظم طریقے سے نمٹانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ عدالت 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات، بین الصوبائی تنازعات اور ایسے دیگر اہم آئینی معاملات کا فوری اور واضح فیصلہ کرنا ہے۔ اس خصوصی عدالت کے قیام سے موجودہ عدالتی ڈھانچے پر موجود بوجھ کم ہونے اور آئینی مقدمات کے تیز تر فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

حلف برداری کی تقریب اسلام آباد کے ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی، جہاں صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف، سینئر ججز، عسکری قیادت، پارلیمنٹیرینز اور دیگر شخصیات کی موجودگی میں جسٹس امین الدین خان سے حلف لیا۔ تقریب میں اہم قومی شخصیات کی شرکت اس نئے عدالتی ادارے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

حلف اٹھانے کے بعد جسٹس امین الدین خان نے عدل کی فراہمی میں بہتری، آئین کی بالادستی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور منصفانہ فیصلے ہی عوام کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

نئے نظام کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 سال کی عمر تک خدمات انجام دیں گے، جبکہ چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر کی گئی ہے۔ اس کا مقصد ادارے میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے باقاعدہ قیادت کی تبدیلی کو یقینی بنانا ہے۔

اس عدالت کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے فیصلے پاکستان کی تمام عدالتوں، حتیٰ کہ سپریم کورٹ، پر بھی لازم ہوں گے۔ اس سے نہ صرف اس عدالت کا آئینی اختیار مضبوط ہوگا بلکہ ملک بھر میں آئینی تشریحات میں یکسانیت بھی برقرار رہے گی۔

More From Author

پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کی نشاندہی پر 10 ہزار روپے انعام کا اعلان

امریکی منرل فرم نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے