پاکستان کی باسمتی چاول کی صنعت کو امریکہ میں نئی رفتار مل رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ اس کے سب سے بڑے حریف بھارت پر عائد سخت امریکی محصولات ہیں۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (REAP) کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2023-24 میں پاکستان نے 7 لاکھ 72 ہزار 725 ٹن باسمتی چاول برآمد کیے، جن سے 87 کروڑ 69 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ یہ پچھلے مالی سال کی نسبت نمایاں اضافہ ہے، جب 5 لاکھ 95 ہزار 120 ٹن چاول کی برآمدات سے 65 کروڑ 4 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے تھے۔ فی ٹن اوسط قیمت بھی بڑھ کر 1,092.93 ڈالر سے 1,134.86 ڈالر تک جا پہنچی۔
نومبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے درمیان امریکہ پاکستان کے باسمتی چاول کا سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا، جس نے کل برآمدات کا 24 فیصد حصہ خریدا، جو کہ 1,519 شپمنٹس پر مشتمل تھا۔ اٹلی 14 فیصد (908 شپمنٹس) کے ساتھ دوسرے اور برطانیہ 11 فیصد (716 شپمنٹس) کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
امریکی محکمہ زراعت (USDA) کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں امریکہ میں چاول کی درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں — 1993-94 میں یہ شرح صرف 7 فیصد تھی جو 2022-23 تک بڑھ کر 25 فیصد سے زائد ہو گئی۔ آج امریکہ میں درآمد ہونے والے چاول کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ خوشبودار ایشیائی اقسام پر مشتمل ہے، جن میں بھارت اور پاکستان کا باسمتی اور تھائی لینڈ کا جیسمین شامل ہیں۔ یہ نیا تجارتی موقع دراصل واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان وسیع تر تجارتی تنازع کا نتیجہ ہے۔ بھارت کے توانائی اور تجارتی روابط پر امریکی پابندیوں کے تحت الیکٹرانکس، ادویات اور باسمتی چاول سمیت متعدد بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے گئے۔ اگرچہ کچھ شعبوں کو بعد میں چھوٹ مل گئی، لیکن بھارتی باسمتی اب بھی مکمل 50 فیصد ٹیکس کے تحت ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی باسمتی پر صرف 19 فیصد ڈیوٹی عائد ہے، جو اسے امریکی منڈی میں نمایاں قیمت کا فائدہ فراہم کرتی ہے