ٹوکیو – 4 اگست 2025
جاپانی حصص بازار میں پیر کے روز شدید مندی دیکھی گئی، جو اپریل کے بعد سے سب سے بڑی گراوٹ ثابت ہوئی۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ کی معاشی صورتحال پر بڑھتے ہوئے خدشات اور عالمی تجارتی تناؤ میں اضافہ تھا، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سخت متاثر کیا۔
معروف نکئی 225 انڈیکس میں 1.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 11 اپریل کے بعد سے بدترین یومیہ کارکردگی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹوپکس انڈیکس بھی 1.5 فیصد نیچے آیا۔ سب سے زیادہ نقصان بینکنگ سیکٹر کو ہوا، جہاں اس شعبے کا سب انڈیکس 4.2 فیصد گر گیا — یہ جاپانی سرمایہ کاروں میں گہرے اضطراب کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ گراوٹ اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹس بھی تنزلی کا شکار ہوئیں۔ اس کی وجہ جولائی میں ملازمتوں کے اعداد و شمار کا توقعات سے کہیں کم آنا اور ساتھ ہی امریکی حکومت کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیرفس سے عالمی تجارت پر چھائے سائے ہیں۔
امریکی محکمہ محنت کے مطابق، جولائی میں صرف 73,000 غیر زرعی ملازمتیں پیدا ہوئیں — جو کہ ماہرین معیشت کی پیش گوئی سے بہت کم ہیں۔ اس کے علاوہ جون کے اعداد و شمار کو بھی نیچے کی طرف درست کیا گیا ہے۔
اسی دوران، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے عندیہ دیا کہ گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف — جیسے کینیڈا پر 35%، برازیل پر 50%، بھارت پر 25%، تائیوان پر 20% اور سوئٹزرلینڈ پر 39% — جلد ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اس بیان سے عالمی تجارتی سست روی کا خدشہ مزید بڑھ گیا، خاص طور پر جاپان جیسے برآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک میں۔
جاپان میں داخلی سیاسی صورت حال نے بھی بازاروں پر منفی اثر ڈالا ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے الیکشن میں وزیرِاعظم شیگیری اشیبا کی حکمران جماعت کو ایوانِ بالا میں اکثریت کا نقصان ہوا، جس کے بعد ان کے استعفے کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ اگرچہ اشیبا متعدد بار استعفیٰ دینے کی خبروں کی تردید کر چکے ہیں، مگر ان کی اپنی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سے ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
دایوا سیکیورٹیز کے چیف اسٹریٹجسٹ کینجی آبی کا کہنا تھا، "امریکہ سے کمزور روزگار کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کے مزاج پر منفی اثر ڈالا ہے۔ اس کے ساتھ اگر وزیرِاعظم اشیبا واقعی مستعفی ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو یہ صورت حال مزید غیر یقینی ہو سکتی ہے۔”
نکئی انڈیکس میں 189 اسٹاکس گراوٹ کا شکار ہوئے جبکہ صرف 34 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ ہوا۔ سب سے زیادہ نقصان کریڈٹ سائیسون کے حصص کو ہوا جو 8.2 فیصد گر گئے، اس کے بعد یاماہا کے شیئرز میں 7.9 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ تاہم چند مثبت پہلو بھی دیکھنے میں آئے۔ چپ ساز کمپنی سوشیونیکسٹ (Socionext) کے شیئرز 3.9 فیصد بڑھے جبکہ ہویا کارپوریشن — جو آپٹکس مصنوعات کے لیے مشہور ہے — نے 2.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹیکنالوجی سیکٹر میں مسلسل طلب کی امید نے ان کمپنیوں کی کارکردگی کو سہارا دیا