امریکہ نے ٹرمپ کے لیے پاکستان کی نوبیل امن انعام کی نامزدگی کو تسلیم کر لیا، نیتن یاہو نے بھی حمایت کر دی

واشنگٹن / اسلام آباد — جولائی 2025

وائٹ ہاؤس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے پاکستان کی جانب سے نوبیل امن انعام کی نامزدگی کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں ان کے "فیصلہ کن سفارتی کردار” کا اعتراف قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ یہ نامزدگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان نے ایک ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکنے میں صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا ہے۔

"یہ نامزدگی پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کی اس فیصلہ کن سفارتی مداخلت کا اعتراف ہے، جس کے ذریعے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو ٹالا گیا”، لیویٹ نے کہا۔ "یہ ان کی عالمی امن و امان کے لیے وسیع تر خدمات کا ثبوت ہے۔”

پاکستان نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرے گا، اور انہیں "ایک سچے امن پسند” قرار دیا تھا، خاص طور پر 2024 کے آغاز میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ان کے خفیہ کردار کو سراہا گیا تھا — جسے پاکستانی حکام نے ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچاؤ قرار دیا۔

نیتن یاہو کی حمایت

اس مہم کو مزید تقویت اس وقت ملی جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا۔ رواں ہفتے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے عشائیے کے دوران نیتن یاہو نے ٹرمپ کو نوبیل کمیٹی کے نام ایک باضابطہ خط پیش کیا۔

"وہ اس وقت بھی امن قائم کر رہے ہیں — ایک کے بعد ایک ملک اور ایک کے بعد ایک خطے میں،” نیتن یاہو نے کہا۔ انہوں نے ٹرمپ کے ان سفارتی اقدامات کا حوالہ دیا جن میں مشرقِ وسطیٰ میں کئی اہم معاہدے شامل ہیں۔

یہ حمایت حیران کن نہیں، کیونکہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے ابراہام معاہدوں کی بنیاد رکھی تھی، جن کے تحت اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے۔ ان کی انتظامیہ نے سربیا اور کوسووو کے درمیان معاہدہ کرانے اور مصر و ایتھوپیا کے درمیان تناؤ میں کمی کا بھی کریڈٹ لیا تھا۔

ٹرمپ کی جانب سے خیرمقدم

صدر ٹرمپ، جو ماضی میں نوبیل کمیٹی کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر کئی بار ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں، نے پاکستان اور اسرائیل دونوں کی نامزدگیوں کا خیرمقدم کیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق ٹرمپ اس اقدام کو اپنی خارجہ پالیسی کی دیرینہ کامیابیوں کا اعتراف سمجھتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کے مقابلے میں جنہیں ماضی میں انعام دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے عشائیے میں ٹرمپ نے غزہ کی موجودہ جنگ پر بھی بات کی اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پس پردہ بات چیت جاری ہے اور پیش رفت ہو رہی ہے۔

تاہم، ٹرمپ نے فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنے کی تجویز بھی دوبارہ پیش کی — جو ایک متنازع معاملہ ہے اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بن چکا ہے۔

عالمی ردعمل اور ملی جلی آراء

پاکستان اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی ان دوہری نامزدگیوں نے سوشل میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ کے حامی اسے ان کی دیرینہ خدمات کا درست اعتراف قرار دے رہے ہیں، جب کہ ناقدین کہتے ہیں کہ ان کی تقسیم پیدا کرنے والی سیاست اور جارحانہ انداز نوبیل امن انعام کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔

تاہم، چونکہ نوبیل امن انعام کے لیے دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت اور اراکینِ پارلیمنٹ کو نامزدگی کا اختیار حاصل ہے، اس لیے پاکستان اور اسرائیل جیسے اتحادیوں کی جانب سے حمایت ایک اہم علامتی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے نوبیل کمیٹی ان نامزدگیوں پر عمل کرے یا نہ کرے، یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کرنے اور 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کے سیاسی امکانات کو تقویت دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ضرور ہے۔

More From Author

مون سون بارشوں کے بعد ممکنہ سیلابی خطرات: وزیراعظم شہباز شریف نے تمام اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی

مائیکروسافٹ نے پاکستان سے آپریشن ختم کرنے کے بعد بھارت میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے