واشنگٹن – پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات میں نئی جان ڈالنے کے اشارے ملے ہیں، جب پاکستان فضائیہ (پی اے ایف) کے سربراہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ایک اہم سرکاری دورہ امریکہ مکمل کیا۔ یہ گزشتہ دس برسوں میں کسی بھی حاضر سروس ایئر چیف کا پہلا دورہ تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ایئر چیف نے اپنے دورے کے دوران امریکی محکمہ خارجہ، پینٹاگون اور کیپیٹل ہِل سمیت اہم اداروں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مرکز باہمی فوجی تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ تربیتی پروگرامز کو بڑھانا، اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے نئے راستے تلاش کرنا تھا۔
پینٹاگون میں، ایئر چیف مارشل سدھو نے امریکی فضائیہ کی بین الاقوامی امور کی سیکرٹری، محترمہ کیلی ایل سیبولٹ، اور امریکی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل ڈیوڈ ڈبلیو آلوِن سے ملاقات کی۔ دونوں فریقین نے علاقائی سلامتی اور دفاعی شراکت داری کے تناظر میں اسٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
ایئر چیف مارشل سدھو نے ملاقات کے دوران کہا، “پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی ایک طویل اور کثیرالجہتی تاریخ ہے، خاص طور پر دفاعی شعبے میں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان موجودہ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے، تاکہ دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی روابط مضبوط ہوں۔
دونوں جانب سے مستقبل میں اعلیٰ سطحی عسکری رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے تاکہ باہمی اعتماد اور تعاون کو مستحکم کیا جا سکے۔
یہ اہم دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہی روز قبل پاک فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، بھی امریکہ کے دورے پر گئے تھے۔ اس دوران ان کی ملاقات امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوئی، جنہوں نے فیلڈ مارشل منیر کے ساتھ ظہرانے کی میزبانی کی۔
ٹرمپ نے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا، “آج ان سے ملاقات میرے لیے باعثِ اعزاز تھی۔” انہوں نے پاکستان کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کا بھی اشارہ دیا، اور جنرل منیر کی بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں ادا کی گئی مثبت کردار کی تعریف کی۔
دونوں اعلیٰ عسکری رہنماؤں کے حالیہ دوروں کے تناظر میں ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات ایک نئے موڑ کی جانب بڑھ سکتے ہیں — جو نہ صرف علاقائی توازن پر اثرانداز ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں تعاون کے نئے در بھی کھول سکتے ہیں۔