لاہور:
یورپی یونین (EU) اور برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن کی بحالی کے بعد اب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی امریکا کے لیے پروازوں کے دوبارہ آغاز کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اس حوالے سے امریکی ایوی ایشن ریگولیٹر سے بات چیت میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کا ایک وفد حال ہی میں اسلام آباد میں ایک ہفتے تک پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کے ساتھ مشاورت کرتا رہا، جس میں امریکی سفارتخانے کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اجلاس میں پاکستان کے قانونی، ریگولیٹری اور آپریشنل نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور دونوں جانب سے فضائی حفاظت اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
سول ایوی ایشن کے ذرائع کے مطابق ایف اے اے کا وفد مجموعی طور پر مطمئن نظر آیا اور بتایا جا رہا ہے کہ ماضی میں سامنے آنے والے کئی سکیورٹی اور لائسنسنگ کے مسائل اب کافی حد تک حل ہو چکے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ امریکا کے لیے براہِ راست پروازیں جلد بحال ہو جائیں گی۔ وفد اب امریکا واپس جا چکا ہے اور اپنی رپورٹ جلد جاری کرے گا۔ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بھی امریکی ٹیم سے ملاقات کر کے ایئرلائن کی موجودہ آپریشنز پر بریفنگ دی۔
یاد رہے کہ 2020 میں اس وقت کے وفاقی وزیر ہوابازی کے انکشافات کے بعد امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ نے پاکستان کی پروازوں پر پابندی لگا دی تھی۔ وزیر نے پارلیمنٹ میں بتایا تھا کہ کئی پائلٹس کو بغیر مناسب امتحانات اور تربیت کے لائسنس جاری کیے گئے، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر سخت ردِعمل سامنے آیا۔
دوسری جانب، پی آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ اس ماہ کینیڈا کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل رہیں گی کیونکہ طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے دو بوئنگ 777 طیارے باقاعدہ تکنیکی جانچ اور پرزہ جات کی تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ یہ مینٹیننس ہر دس برس بعد لازمی ہوتی ہے اور تقریباً تین ہفتے تک جاری رہے گی۔ یہ طیارے 17 گھنٹے تک بلا رکے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق یہ اقدام اس لیے ضروری تھا تاکہ آئندہ ماہ مسافروں کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر طیاروں کو مکمل طور پر تیار رکھا جا سکے۔ “ہم اپنے مسافروں کو پیش آنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں، مگر ان کی سلامتی اور طیاروں کی مکمل فٹنس ہی ہماری اولین ترجیح ہے،” ترجمان نے واضح کیا۔