کراچی:
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اس ہفتے معمولی کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی کمی رپورٹ کی ہے، جس کے بعد مجموعی ذخائر کم ہو کر 14.23 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ کمی شیڈول کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے ہوئی۔
تاہم، کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ بدستور 5.26 ارب ڈالر پر برقرار ہیں۔ یوں ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر اب 19.5 ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر روپے کی قدر میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی، جہاں انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.04 فیصد مستحکم ہوا۔ کاروباری دن کے اختتام پر روپیہ 282.67 سے بڑھ کر 282.56 روپے پر بند ہوا، یعنی 11 پیسے کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔
عالمی سطح پر ڈالر کمزور، فیڈرل ریزرو اور سیاسی بے یقینی نے دباؤ بڑھا دیا
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ امریکی ڈالر کو بڑے کرنسیوں کے مقابلے میں دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ ساتھ ہی، امریکہ کے اہم اداروں میں سیاسی مداخلت پر بڑھتے ہوئے خدشات نے بھی ڈالر کو مزید کمزور کیا ہے۔
ماہرین کی نظریں امریکی روزگار کی رپورٹ پر جمی ہوئی ہیں، خاص طور پر پچھلے ہفتے کی غیر تسلی بخش نان فارم پے رول ڈیٹا کے بعد، جس نے فیڈ پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ اس کے برعکس، یورو کرنسی میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، خاص طور پر روس-یوکرین امن مذاکرات سے قبل۔
پاکستان میں سونا بلند ترین سطح پر، عالمی غیر یقینی صورتحال کا اثر
عالمی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی جانب راغب کر دیا ہے، جس کا براہ راست اثر سونے کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ پاکستان میں سونے کی قیمت میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا، جہاں فی تولہ سونا 2,900 روپے مہنگا ہو کر 362,200 روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2,487 روپے اضافہ ہوا، جو اب 310,528 روپے ہو چکی ہے۔ یہ اضافہ ایک دن قبل ہونے والے 1,300 روپے کے اضافے کے بعد ہوا ہے۔ عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں تیزی آئی ہے۔ "اسپاٹ گولڈ” کی قیمت دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کی وجہ امریکہ کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نافذ کردہ نئے ٹیرف اور شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات ہیں