جسٹس منہاس نے معاملہ چیف جسٹس کو بڑے بینچ کی تشکیل کے لیے بھیج دیا
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کا وہ بینچ جو پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور ممکنہ وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا تھا، تحلیل کر دیا گیا ہے۔
پیر کے روز سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے کیس فائل چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ایک بڑے بینچ کی تشکیل کی ضرورت ہے۔
اس کیس کی سماعت اس سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کر رہے تھے جنہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے۔ ان نوٹسز میں حکومت سے یہ وضاحت طلب کی گئی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ کے کیس پر امریکی عدالت کی معاونت کیوں نہیں کی گئی۔
پیر کے روز کی سماعت میں ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے دائر درخواست پر ان کے وکیل ایڈووکیٹ عمران شفیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔ تاہم جسٹس منہاس نے ریمارکس دیے کہ ان کے حکم میں کوئی ابہام نہیں، اور وہ واضح طور پر یہ قرار دے چکے ہیں کہ چیف جسٹس ہی "ماسٹر آف دی روسٹر” ہیں۔
جسٹس منہاس نے کہا:
"جسٹس منیب اختر بھی یہ قرار دے چکے ہیں کہ چیف جسٹس ہی روسٹر کے ماسٹر ہیں، اور میں نے بھی یہی حکم دیا ہے۔ لیکن چونکہ ایک اور جج کی رائے مختلف ہے، اس لیے میں یہ معاملہ بڑے بینچ کو بھیج رہا ہوں۔”
اس سے قبل جسٹس اعجاز اسحاق خان نے 21 جولائی کو وزیرِاعظم اور کابینہ کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔ ان کے حکم میں کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم سمیت تمام وزراء دو ہفتوں میں تحریری جواب داخل کریں۔ انہوں نے یہ بھی متنبہ کیا تھا کہ مزید تاخیر یا عدم تعاون کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
دلچسپ امر یہ تھا کہ اگرچہ جسٹس اعجاز اسحاق خان کو 21 جولائی سے گرمیوں کی تعطیلات پر جانا تھا، انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس تاریخ کو بھی سماعت کریں گے۔ کیس ان کی بینچ لسٹ میں شامل نہیں تھا، لیکن انہوں نے پھر بھی کارروائی کی اور بعد ازاں ایک سخت حکم نامہ جاری کیا جس میں حکومت کی نااہلی پر تنقید کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس ڈوگر اور اُن ججوں پر بھی تنقید کی جنہیں انہوں نے "ڈیمولیشن اسکواڈ” قرار دیا۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت 15 جولائی کو سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہے تاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اُس حکم کو کالعدم قرار دیا جائے جو 16 مئی کو جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم میں ایک پرانے مقدمے میں ترمیم کی اجازت دی گئی تھی، جو تقریباً ایک دہائی پہلے دائر کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جنہیں ان کے حامی "قوم کی بیٹی” بھی کہتے ہیں، ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ امریکہ میں سزا پانے کے بعد ان کا معاملہ نہ صرف قانونی جنگ بلکہ سفارتی اور عوامی بحث کا بھی حصہ بن چکا ہے۔ ان کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے پاکستان میں مختلف حلقے مسلسل آواز بلند کرتے رہے ہیں۔