اسلام آباد کی عدالت نے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے جمعرات کو ایک ماتحت عدالت کے اُس فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت متعدد یوٹیوب چینلز کو مبینہ "ریاست مخالف مواد” کی بنیاد پر بلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محمد افضل ماجوکہ نے 11 کانٹینٹ کریئیٹرز، جن میں معروف صحافی بھی شامل ہیں، کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کا 8 جولائی کا حکم منسوخ کر دیا۔

سماعت کے دوران جج ماجوکہ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے پراسیکیوٹر پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں عدالت پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کن اختیارات کے تحت یہ چینلز بلاک کیے گئے اور متنبہ کیا کہ عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 8 جولائی کو مجسٹریٹ عباس شاہ نے 27 یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جن میں زیادہ تر پاکستانی صحافیوں اور تبصرہ نگاروں کے چینلز شامل تھے۔ متاثرہ افراد میں اوریا مقبول جان، آفتاب اقبال، مطیع اللہ جان، عمران ریاض خان اور اسد طور کے چینلز بھی شامل تھے۔

ان میں سے 11 کانٹینٹ کریئیٹرز نے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جن کی درخواستوں کو عدالت نے اکٹھا سن کر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس سے قبل واضح کر دیا تھا کہ صرف وہی درخواستیں قابلِ سماعت ہوں گی جن میں درخواست گزار یا ان کے وکیل ذاتی طور پر پیش ہوں، بصورتِ دیگر غیر حاضری پر مقدمات خارج کر دیے جائیں گے۔

یہ فیصلہ ڈیجیٹل صحافیوں اور آزاد کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ایک بڑی راحت سمجھا جا رہا ہے، جو عرصے سے آن لائن اظہارِ رائے پر بڑھتی ہوئی قدغنوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

More From Author

پاکستان اور ایران کے درمیان براہِ راست پروازیں ساٹھ برس بعد بحال

بلدیہ فیکٹری سانحے کے متاثرین کی یاد میں تقریب، انصاف اور تحفظاتی اصلاحات کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے