اسلام آباد — یکم اگست 2025:
اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے اسلام آباد میں جمعرات کو ایک پُرجوش آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا آغاز کیا گیا، جس میں ملک میں مبینہ ’’انجینئرڈ سیاست‘‘ اور آئینی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی گئی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے پلیٹ فارم پر منعقدہ اس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، سول سوسائٹی اور ممتاز قانونی ماہرین سمیت مختلف حلقوں کے سرکردہ رہنما شریک ہوئے۔
کانفرنس کا مقصد جمہوریت کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور شفاف انتخابات کے لیے مشترکہ سیاسی لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کانفرنس کے ابتدائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"جمہوریت کو ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن جمہوریت ختم نہیں ہوگی۔ ہم آئینی بالادستی بحال کریں گے، عدلیہ کو آزاد کریں گے اور 26ویں آئینی ترمیم کو ختم کریں گے۔”
واضح رہے کہ کانفرنس کا آغاز ایک ہوٹل میں ہونا تھا، تاہم آخری لمحات میں ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے بکنگ منسوخ ہونے پر تقریب سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے ترلائی فارم ہاؤس منتقل کر دی گئی — جسے اپوزیشن رہنماؤں نے ایک سیاسی چال قرار دیا۔
اجلاس کے دوران حالیہ عدالتی فیصلوں پر شدید تنقید کی گئی، جن میں اپوزیشن کے متعدد منتخب اراکین کو قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
ٹی ٹی اے پی کی جانب سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں شبلی فراز، اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حمید رضا سمیت دیگر رہنماؤں کو دی جانے والی سزاؤں کو سیاسی انتقام قرار دیا گیا۔
ترجمان ٹی ٹی اے پی اخونزادہ حسین احمد نے کہا کہ ’’یہ سزائیں انصاف نہیں بلکہ سیاسی بدلہ ہیں۔ موجودہ عدالتی نظام پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں۔‘‘
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور ٹی ٹی اے پی کے مرکزی رہنما محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کا آئین بار بار طاقتور اداروں کے ہاتھوں پامال ہوا ہے۔
’’پاکستان بندوق اور ڈنڈے سے نہیں چل سکتا۔ ریاست ایک عمرانی معاہدے سے چلتی ہے — اور ہمارا آئین ہی وہ معاہدہ ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
اچکزئی نے جج صاحبان، جرنیلوں، وکلاء، دانشوروں اور ہر آئین پسند شہری سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کا ساتھ دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹی اے پی کسی ریاستی ادارے کے اشارے پر نہیں بنائی گئی اور نہ ہی یہ کسی سے تصادم چاہتی ہے، بلکہ آئین کی سربلندی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپوزیشن رہنماؤں کو ایک ہی دن میں سزائیں سنانے کے عمل کو ’’پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن‘‘ قرار دیا۔
’’یہ انصاف نہیں، یہ صرف سیاسی انتقام ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کرنے کے باوجود عوام نے عمران خان کو ووٹ دینے کی راہ نکالی۔
’’اب وہ چاہتے ہیں کہ اُسے جیل میں رکھیں — یہ جمہوریت نہیں، ایک تماشا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل قومی یکجہتی صرف انصاف سے حاصل ہو سکتی ہے، طاقت سے نہیں۔
بلوچستان سے سابق سینیٹر لشکری رئیسای نے آئین کی پامالی میں ملوث عناصر کے خلاف ’’سچ اور انصاف کمیشن‘‘ قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب بھی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کریں گی یا متحد ہوکر کوئی آزاد راہ اختیار کریں گی — موجودہ پارلیمنٹ کے اندر یا باہر؟
مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں آئینی ڈھانچہ ٹوٹ چکا ہے اور عوام موجودہ نظام سے مایوس ہو چکے ہیں۔
’’صرف قانون کی حکمرانی اور آئینی نظام کی بحالی ہی ہمیں اس بحران سے نکال سکتی ہے،‘‘ انہوں نے خبردار کیا۔
جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے الیکشن کمیشن کو اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار قرار دیا۔
’’جنہیں عوام نے منتخب کیا، وہ جیلوں میں ہیں۔ اور جو ہارے، وہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر جمہوریت کا ناٹک کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
کانفرنس جمعہ کو بھی جاری رہے گی، جس میں سیاسی اصلاحات اور جمہوری نظام کی بحالی کے لیے آئندہ کا روڈ میپ طے کیے جانے کی توقع ہے۔
ٹی ٹی اے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں حقیقی پارلیمانی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی اور انتخابات کا غیرجانبدار نظام قائم نہیں ہو جاتا۔