اسرائیلی حملوں میں 43 فلسطینی جاں بحق، ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے بھی شامل، جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار

غزہ سٹی: اتوار کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 43 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں، جبکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں نے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں غزہ سٹی کی ایک مارکیٹ بھی شامل ہے جہاں 11 افراد مارے گئے۔ وسطی غزہ کے النصیرات مہاجر کیمپ میں پانی بھرنے کے ایک مرکز پر ڈرون حملے میں آٹھ بچوں سمیت دس افراد جاں بحق ہوئے۔

سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کا کہنا تھا کہ یہ حملے عام شہریوں پر اس وقت کیے گئے جب وہ معمولات زندگی میں مصروف تھے۔ النصیرات کے رہائشی خالد ریان نے بتایا کہ وہ دو زور دار دھماکوں کی آواز سن کر جاگ گئے۔ "ہمارے پڑوسی اور ان کے بچے ملبے تلے دبے ہوئے تھے،” انہوں نے کہا۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان کا ہدف اسلامی جہاد کا ایک رکن تھا، جو حماس کا اتحادی گروپ ہے، لیکن فوج نے یہ بھی تسلیم کیا کہ "گولہ بارود میں تکنیکی خرابی کے باعث نشانہ چوک گیا اور بم ہدف سے کئی میٹر دور گر گیا۔” فوج نے کہا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور شہری ہلاکتوں کی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔

ادھر دوحہ میں جنگ بندی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں فریقین کے نمائندے ایک ہفتے سے عارضی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کر رہے ہیں لیکن ہر جانب سے دوسری طرف پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

غزہ کے شہری محمود الشامی نے کہا، "ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، انسانیت کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ بس بہت ہو چکا۔”

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ بھر میں 150 سے زائد “دہشت گرد اہداف” کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم غزہ میں میڈیا تک محدود رسائی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

یہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 1,219 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اسرائیل کے مطابق اب بھی 49 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 27 کے مرنے کا خدشہ ہے۔ جوابی کارروائی میں اسرائیل کے فضائی حملوں سے غزہ میں اب تک 58 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو مستند مانتی ہے۔

ادھر غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن کی شدید قلت بنیادی سہولیات کو تباہ کر سکتی ہے۔ فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد شوا نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں صرف ڈیڑھ لاکھ لیٹر ایندھن غزہ پہنچا ہے جبکہ روزانہ دو لاکھ پچھتر ہزار لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی دوران، اٹلی سے ایک سابق ناروین ماہی گیری جہاز طبی امداد، خوراک اور بچوں کا سامان لے کر روانہ ہوا ہے، جس پر سوار pro-Palestinian کارکن اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود غزہ پہنچنے کی امید کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اسرائیل نے امدادی کشتی کے کارکنوں کو حراست میں لے کر ملک بدر کر دیا تھا۔

جنگ بندی مذاکرات بدستور نازک موڑ پر ہیں۔ حماس مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ اسرائیلی تجاویز کے مطابق وہ غزہ کے 40 فیصد علاقے میں فوجیں رکھنا چاہتا ہے۔ ایک فلسطینی ذریعے نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے لاکھوں فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں دھکیلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس کا مقصد انہیں مصر یا دیگر ملکوں میں جبری طور پر منتقل کرنا ہے۔

اسرائیل نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات میں لچک دکھا رہا ہے جبکہ حماس اپنی ضد پر قائم ہے جس سے معاہدہ آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل صرف اسی صورت مستقل جنگ بندی پر بات کرے گا جب حماس ہتھیار ڈال دے گی۔

ادھر تل ابیب میں ہزاروں افراد نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا۔ سابق یرغمالی ایلی شرا بی نے کہا، "یہ موقع ابھی ہے، لیکن زیادہ دیر تک نہیں رہے گا

More From Author

سرکاری اداروں کے نقصانات 59 کھرب روپے سے تجاوز کر گئے، وزارت خزانہ کا انتباہ

پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کوئی امریکی دباؤ نہیں، سفیر رضوان سعید شیخ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے