ڈھاکا:
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکا پہنچ گئے، جہاں ان کے اس دورے کا مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ڈھاکا کے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا استقبال بنگلہ دیش کے سیکریٹری خارجہ سفیر اسد عالم سیام، پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
یہ دورہ، جسے دونوں ملکوں کی جانب سے "انتہائی ضروری اور تاخیر کا شکار” قرار دیا گیا ہے، اس سے قبل دو مرتبہ ملتوی ہو چکا تھا، حالیہ بار رواں سال مئی میں، جب پاہلگام حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار اپنے قیام کے دوران چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور مشیر برائے خارجہ امور توحید حسین سے ملاقاتیں کریں گے۔ بیان کے مطابق، ان ملاقاتوں میں "دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا کے اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔”
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک اعلیٰ سطحی بنگلہ دیشی فوجی وفد پاکستان میں موجود ہے، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ جمعرات کو بنگلہ دیش آرمی کے کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد فیض الرحمٰن نے راولپنڈی میں جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات کی۔
ملاقات میں خطے کی سلامتی کے حالات پر گفتگو ہوئی اور دفاع و سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ جنرل مرزا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے نئے مواقع کی نشاندہی کی، جبکہ جنرل فیض الرحمٰن نے پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ اسلام آباد اور ڈھاکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری اُس وقت سے دیکھنے میں آئی ہے جب گزشتہ برس شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ موجودہ عبوری حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کا ازسرِنو تعین کیا ہے، جس کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کی راہ ہموار ہوئی ہے