اردوان کی فلسطین کو تسلیم کرنے والے یورپی ممالک کی ستائش، اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنے کا اعلان

انقرہ – یکم اگست 2025:
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے یورپ کے متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ’’درست سمت میں قیمتی قدم‘‘ قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر سفارتی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جائے۔

انقرہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال جیسے ممالک کی پالیسی میں تبدیلی کو فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ’’ہر وہ ملک جو فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتا ہے، وہ انصاف کی اس جدوجہد کو تقویت دیتا ہے۔ ان یورپی ممالک کا انسانی ہمدردی پر مبنی مؤقف قابلِ تعریف ہے۔ ہم آنے والے دنوں میں اسرائیل پر سفارتی دباؤ کو مزید بڑھائیں گے تاکہ اس کی جارحیت کو روکا جا سکے۔‘‘

غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اردوان نے کہا، ’’بچوں کے بھوکا مرنے پر خاموشی جرم ہے۔ ایسے معصوم شہریوں پر فائرنگ جو صرف کھانے کے لیے فریاد کر رہے ہوں، انسانیت سوز عمل ہے۔ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے۔‘‘

ادھر جنوب مشرقی ایشیا کا ملک سنگاپور بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے، جس کے متعلق حکام نے کہا ہے کہ ’’ہم اصولی طور پر اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘

اسی دوران یورپ اور کینیڈا میں بھی فلسطین کی حمایت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈین رہنما مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ممالک ستمبر میں فلسطین کو سرکاری طور پر تسلیم کریں گے۔

تاہم، ہر عالمی طاقت اس پالیسی پر متفق نہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیرِاعظم کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اور اسٹارمر کی ملاقات میں فلسطینی ریاست کے موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ ’’ہماری ملاقات خوشگوار رہی، مگر فلسطین پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی،‘‘ ٹرمپ نے کہا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کے گروپ میں شامل نہیں ہے۔ ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیل سے براہِ راست بات کریں گے۔‘‘

غزہ میں جاری خوراک کے بحران پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک ’’فوڈ سینٹر‘‘ کے قیام پر بات چیت کریں گے تاکہ امداد کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم ممکن ہو سکے۔ فلسطینی ریاست کے مستقبل اور غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں، یہ آنے والے ہفتے بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں

More From Author

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی یونیورسٹیوں کو یومِ آزادی قومی جذبے سے منانے کی ہدایت

ننھی آوازیں، بڑی دریافت: اسٹینفورڈ کے سائنسدانوں نے آواز سے روشنی کو شکل دینے والا نینو ڈیوائس تیار کر لیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے