واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور اب غزہ کے مستقبل کا فیصلہ مکمل طور پر اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔
اسکاٹ لینڈ میں یورپی کمیشن کے صدر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے مذاکرات ختم کر دیے ہیں۔ “اب اسرائیل خود طے کرے گا کہ غزہ میں کیا ہوگا۔ سچ پوچھیں تو مجھے نہیں معلوم کہ وہاں اب کیا ہونے والا ہے،” انہوں نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا۔
ٹرمپ نے غزہ میں جاری یرغمالیوں کے بحران پر بھی بات کی اور کہا کہ حماس قیدیوں کی رہائی کے لیے تیار نہیں ہے۔ “ہم نے کوشش کی، مذاکرات کیے، لیکن وہ قیدیوں کو واپس کرنے پر آمادہ نہیں۔ جنگ بندی ختم ہونے اور بات چیت ناکام ہونے کے بعد کیا نتیجہ نکلے گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا،” انہوں نے کہا۔
سابق صدر نے اس موقع پر امریکہ کی جانب سے غزہ کو دی گئی امداد کا بھی ذکر کیا اور شکوہ کیا کہ 60 ملین ڈالرز کی امداد دی گئی، لیکن کسی نے شکریہ تک ادا نہیں کیا۔ “ہم نے بہت کچھ دیا — ساٹھ ملین ڈالر — لیکن کسی نے شکریہ نہیں کہا،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے اس بارے میں بات کریں گے کہ مستقبل میں امداد کس طرح دی جائے اور انسانی بنیادوں پر کس طرح مدد کی جا سکتی ہے۔
ادھر، غزہ میں انسانی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی محکمہ صحت کے مطابق حالیہ دنوں میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید پانچ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں، جس کے بعد اسرائیلی ناکہ بندی کے دوران غذائی قلت سے مرنے والوں کی تعداد 133 ہو گئی ہے، جن میں 87 بچے شامل ہیں۔
عالمی دباؤ کے تحت اسرائیل نے جزوی طور پر غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کی ہے، اور مصر کے راستے امدادی سامان سے بھرے ٹرک غزہ میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اگرچہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن فلاحی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ امداد تباہ حال آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 69,821 فلسطینی شہید اور 144,851 زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کر دیا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ حماس کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔
جب سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہوں اور عام شہریوں کی حالت بد سے بدتر ہو رہی ہو، تو غزہ کا مستقبل ایک بڑے سوالیہ نشان میں تبدیل ہو جاتا ہے — ایک ایسا سوال، جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔