اسلام آباد — پاکستانی ڈرائیورز کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے کہ اب وہ پاکستان کے انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس کے ذریعے دنیا کے 132 ممالک میں قانونی طور پر گاڑی چلا سکیں گے۔ یہ پیش رفت ان لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے جو بیرونِ ملک روزگار، تعلیم یا سیاحت کے لیے سفر کرتے ہیں۔
کئی برسوں سے پاکستانی شہریوں کو انٹرنیشنل لائسنس حاصل کرنے کے لیے طویل اور پیچیدہ طریقہ کار سے گزرنا پڑتا تھا۔ تاہم، حالیہ اقدامات کے بعد اس عمل کو آسان بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی شہری اب امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت درجنوں ممالک میں باقاعدہ طور پر گاڑیاں چلا سکیں گے۔
حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد پاکستانی لائسنس کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا اور محفوظ بین الاقوامی سفر کو فروغ دینا ہے۔ یہ لائسنس ایک سال کے لیے قابلِ استعمال ہوتا ہے اور دنیا کے کئی خطوں ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ — میں گاڑی چلانے کی اجازت دیتا ہے۔
درخواست کے لیے امیدوار کو ڈرائیونگ لائسنس اتھارٹی (DLA) کے دفتر جانا ہوتا ہے جہاں وہ پاسپورٹ، شناختی کارڈ، قومی ڈرائیونگ لائسنس اور دو عدد پاسپورٹ سائز تصاویر جمع کرواتا ہے۔ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کو طبی فٹنس سرٹیفکیٹ دینا ضروری ہے، جبکہ بلڈ گروپ رپورٹ بھی لازمی قرار دی گئی ہے، خصوصاً موٹروے پولیس کے ذریعے درخواست دینے والوں کے لیے۔
پروسیس میں بایومیٹرک تصدیق، آنکھوں کا مختصر ٹیسٹ، اور بعض شہروں میں ٹریفک سائن کا کمپیوٹر ٹیسٹ شامل ہے۔ اسلام آباد میں درخواست گزاروں کو ایک تحریری اسسمنٹ بھی دینی پڑتی ہے۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد تقریباً ایک ہفتے میں لائسنس جاری کر دیا جاتا ہے۔
یہ سہولت پاکستانی شہریوں کے لیے نئی راہیں کھولتی ہے چاہے وہ سیاحت کے شوقین ہوں یا کاروباری یا تعلیمی مقاصد کے لیے سفر کرنے والے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کرے گا اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مزید سہولت فراہم کرے گا۔
اب پاکستانی شہری کینیڈا سے قطر، اسپین سے جنوبی افریقہ، اور بھارت سے انڈونیشیا تک باآسانی گاڑی چلا سکتے ہیں ایک ایسا قدم جو پاکستان کو دنیا سے مزید قریب کر رہا ہے۔