کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پیر کے روز صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر 14 مارچ 2025 کو لانچ کی گئی “آئی ورک فار سندھ” ایپ کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد ایپ پر رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 27 ہزار سے زیادہ روزگار کے خواہشمند ہیں۔ ان میں سے 12 ہزار سے زائد افراد کو مختلف اداروں میں نوکریاں مل چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی ادارے ایپ سے منسلک ہو چکے ہیں اور عوام کا اعتماد بڑھنے سے یہ پلیٹ فارم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
انہوں نے حکومتِ سندھ کے شفافیت کے عزم کو دہرایا اور نوجوانوں کو حقیقی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایران پر حالیہ حملے کی شدید مذمت بھی کی اور بتایا کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سندھ حکومت نے 29 کروڑ 70 لاکھ روپے کے خصوصی گرانٹس جاری کیے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ گزشتہ سال لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے صحافیوں کو سندھ بلایا گیا تاکہ وہ صوبے کی ترقی خود دیکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر جیسے علاقوں کے دوروں نے ان کی رائے بدل دی۔
تفریحی صنعت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت مل کر سینما اور ڈرامہ انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ بجٹ میں مقامی فلم پروڈکشن کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں۔
"بھارت اپنی فلموں کے ذریعے اپنا بیانیہ دنیا کو دکھا رہا ہے، ہمیں بھی اپنی کہانی سنانی ہوگی،” انہوں نے زور دیا۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے جعلی خبروں کے خلاف ایک خصوصی سیل قائم کیا ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انہوں نے گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ کے لیے نئی موبائل ایپ کا ذکر کیا، جس میں اب کیو آر کوڈ والا سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ جعلسازی روکی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ گرین لائن بس پر مسافروں کی تعداد میں 15 ہزار کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سے حکومت اس کو اورنج لائن سے منسلک کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ روزانہ 1 لاکھ مسافروں کی سہولت ممکن بنائی جا سکے۔
پیپلز بس سروس اب کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص اور لاڑکانہ میں چل رہی ہے، جہاں اے ٹی ایم طرز کا کرایہ نظام نافذ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس سروس اور خواتین کے لیے مخصوص "پنک بس سروس” بھی شروع کر دی گئی ہے، جو پورے خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی سروس ہے۔
مزید یہ کہ ایک ہزار الیکٹرک پنک اسکوٹیز بھی خواتین کو دی جا رہی ہیں، جن میں سے اب تک 145 خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، اور معروف فوڈ چین KFC اس پروگرام کو تمام اضلاع میں اسپانسر کر رہی ہے۔
مستقبل میں حکومت خواتین کے لیے “پنک ای وی ٹیکسی” سروس بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے خواتین ہی چلائیں گی تاکہ خواتین مسافروں کو محفوظ سفر کی سہولت ملے۔
شرجیل میمن نے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سول ایوی ایشن کے تحفظات اب دور ہو چکے ہیں، جبکہ یلو لائن منصوبہ وقت سے پہلے مکمل ہونے کی طرف گامزن ہے۔
رہائش کے شعبے میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ بلاول بھٹو کی قیادت میں جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ گھر بنائے جا رہے ہیں۔ ان گھروں کی ملکیت خواتین کو دی جا رہی ہے، اور 2 لاکھ سے زائد گھروں کو سولر پاور پر منتقل کیا جائے گا، جس میں وفاقی حکومت، پاکستان آرمی اور ورلڈ بینک کا تعاون حاصل ہے۔
کراچی کی صفائی پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سالانہ اربوں روپے صرف سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ میں 1122 ایمرجنسی ریسکیو سروس اور مفت علاج کی سہولیات کا بھی ذکر کیا۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) میں اب تک 41 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج ہو چکا ہے، جن میں 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد سندھ سے باہر سے آئے تھے، حتیٰ کہ افغانستان سے بھی مریض یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔
انہوں نے اسمبلی میں خطاب کا اختتام پرزور الفاظ میں کیا:
"پاکستان بھر سے لوگ کام کے لیے سندھ آتے ہیں، سندھ کے لوگ کہیں نہیں جاتے۔”
انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی قربانیوں اور جمہوریت کے لیے ان کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آخر میں انہوں نے کہا:
"پیپلز پارٹی امن، شمولیت اور ترقی پر یقین رکھتی ہے — اور ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ ہم سب بھائی ہیں، ہمیں نفرت کی سیاست ختم کرنی ہے۔”